4 فروری کو ، چینی صدر شی جن پھنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی۔
شی جن پھنگ نے نشاندہی کی کہ وہ چین امریکاتعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ نئے سال میں وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر چین -امریکا تعلقات کی مستحکم ترقی کی رہنمائی کرتے ہوئے مزید اہم اور فائدہ مند کام کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور امریکاکے اپنے اپنے تحفظات ہیں، جب تک دونوں فریق برابری، احترام اور باہمی مفاد پر مبنی رویے کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، وہ ایک دوسرے کے خدشات کو دور کرنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ چین اور امریکاکو باہمی اتفاق رائے کے مطابق بات چیت اور تبادلوں کو مضبوط بنانے اور اختلافات کو مناسب طریقے سے سنبھالنے کی بنیاد پر عملی تعاون اور باہمی اعتماد کو مسلسل بڑھانا ہوگا اور بقائے باہمی کے لیے صحیح راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ تائیوان کا مسئلہ چین امریکاتعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے۔ تائیوان چین کی سرزمین کا اٹوٹ حصہ ہے، چین اپنی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرتے ہوئے تائیوان کو چین سے الگ نہیں ہونے دے گا۔ امریکاکو تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے معاملے پر انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا-چین تعلقات، دنیا میں سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ہیں۔ انہیں چین کی کامیابی دیکھ کر خوشی ہوگی اور امریکا،چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں نئی پیش رفت کو فروغ دینے کے لیے چین کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تائیوان کے مسئلے پر چین کی تشویش کو اہمیت دیتے ہیں اور چین کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھنے اور اپنی صدارتی مدت کے دوران امریکا- چین تعلقات کو بہتر اور مستحکم انداز میں قائم رکھنے کے لیے تیارہیں۔