• صفحہ اول>>سیاست

    نئےپانچ سالہ منصوبے میں جدت کے لیے چین کے سرحدی علاقوں کا  اہم کردار

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-16
    نئےپانچ سالہ منصوبے میں جدت کے لیے چین کے سرحدی علاقوں کا  اہم کردار
    26 فروری 2026 ۔ شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے دارالحکومت ارومچی میں شی حو میلے کا منظر ۔ (شنہوا۔ دنگ لئے )

    16 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن) جب چین نے 2026 سے 2030 تک کے نئے پانچ سالہ منصوبے کا اعلان کیا تو خبروں میں ، اے آئی، کمپیوٹنگ پاور اور "سمارٹ اکانومی" جیسے الفاظ تواتر سے سنائی دینے لگے ۔ تاہم، یہ کہانی کا صرف ایک حصہ بیان کرتے ہیں۔

    اس منصوبے کے تانے بانے میں ایک اور اہم تار ،چین کے سرحدی علاقوں کا کردار ہے ۔ ایک متحدہ داخلی مارکیٹ کی تشکیل ، توانائی کے تحفظ اور کھلے پن کو مزید وسیع کرنے کے لیے چین کے سرحدی علاقوں نے قومی ماسٹر پلان میں ایک اہم کردار سنبھال لیا ہے ۔اس منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیاہے کہ چینی جدیدیت کا مقصد سب کے لیے خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نقل و حمل، توانائی، بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچے اور علاقائی انضمام میں شامل ہوکر، یہ سرحدی علاقے چین کی جدیدیت کے تاروپود میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

    قومی سیاسی مشیر اور چائنیز اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے ادارہ برائےعالمی معیشت و سیاست کے نائب ڈائریکٹر جانگ بن کی رائے میں ، سنکیانگ کی سٹریٹجک اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اپنی جغرافیائی پوزیشن، وسائل اور صنعتی بنیاد کی وجہ سے یہ چین کے وسیع تر کھلے پن کی ایک مرکزی بنیاد کے طور پر کام کر سکتا ہے۔

    اس منصوبے میں مغرب کی طرف جانے والی مال بردار ٹرین سروسز کی توسیع اور بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سنکیانگ خود اختیار خطہ، چین کے شمال مغربی سرحدی علاقوں کا پہلا پائلٹ فری ٹریڈ زون ہے اور توقع ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں اس کی ترقیاتی رفتار کافی تیز ہوگی جس سےمغرب کی جانب تجارتی بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

    2025 میں سنکیانگ کی غیر ملکی تجارت کی کل مالیت میں سال بہ سال تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا۔ 520.37 بلین یوان (تقریباً 75.34 بلین امریکی ڈالر) مالیت کی غیر ملکی تجارت کے باعث، سنکیانگ چین کے صوبائی سطح کے تمام علاقوں میں شرح نمو کے لحاظ سے پہلے نمبر پر آتا ہے۔علاقائی محکمہ تجارت کے نائب ڈائریکٹر ن لی شوآن کے مطابق، سنکیانگ کی غیر ملکی تجارت ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہے جس میں وسیع امکانات موجود ہیں اور یہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت کے دوران مضبوط ترقیاتی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بھی پوری طرح سے تیار ہے۔

    31 جولائی 2025 ۔شی زانگ کے خود اختیار علاقے کے شہر لہاسا سے جہ دانگ تک اعلیٰ معیار کی ہائی وے کا فضائی منظر۔ (شنہوا۔جگمی دورجہ)

    31 جولائی 2025 ۔شی زانگ کے خود اختیار علاقے کے شہر لہاسا سے جہ دانگ تک اعلیٰ معیار کی ہائی وے کا فضائی منظر۔ (شنہوا۔جگمی دورجہ)

    منصوبے میں نقل و حمل کے حوالے سے، مغربی علاقوں میں مضبوط ریلوے اور فیڈر ایئر پورٹس کے قیام، سرحدی علاقوں میں سڑکوں کے بہتر نیٹ ورکس اور سرحد پار نقل و حمل کی بہتر ربط سازی پر زور دیا گیا ہے۔ شی زانگ اکیڈمی آف سوشل سائنسز کی نائب ڈائریکٹر پین پا لہا مو کا کہنا ہے کہ جب سرحدی علاقوں کے سڑکوں کے نیٹ ورکس کو قومی سطح کی منصوبہ بندی میں شامل کیا جاتا ہے، تو یہ ملک کی نقل و حمل کے وسیع تر نظام میں بنیادی سرحدی ڈھانچے کے انضمام کی علامت ہے جو کہ ملک بھر میں یکساں داخلی مارکیٹ کو پھیلانے کے لیے اہم ہے۔

    وقت کے ساتھ، یہ طریقہ کار مزید خود انحصاری پر مبنی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ شی زانگ خود اختیار علاقے میں، پہلے ہی نئے اقتصادی امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔ سیاحت کے مرکز نینگ چھی میں، بہتر بنیادی ڈھانچے اور توسیع شدہ ہائی وے لنکس کے ذریعے ، سیب اور یاک کی مصنوعات کو دور دراز کی منڈیوں تک بھرپور رسائی مل رہی ہے ۔ بہتر سڑکیں مزید سیاحوں کو ان علاقوں کی جانب لا رہی ہیں اور مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کو سطح مرتفع سے باہر کے صارفین تک پہنچانے کی سہولت مل رہی ہے۔

    علاقائی حکومت کی ورک رپورٹ کے مطابق، چودھویں پانچ سالہ منصوبے(2021-2025) کے دوران، شی زانگ کا علاقائی جی ڈی پی اوسطاً 6.3 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھا، جو پچھلے سال 303.19 ارب یوان تک ہوگیا۔ 2026 میں شی زانگ نے جی ڈی پی کی ترقی کا ہدف 7 فیصد سے زیادہ کا رکھا ہے اور سرحدی علاقے کے طور پر اپنی کھلے پن کی پالیسی کو اعلیٰ سطح بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے ۔

    نئے پانچ سالہ منصوبے کی توانائی کی حکمت عملی میں بھی ان دور دراز علاقوں کو چین کی سبز توانائی کی توسیع کے میدان میں صف اول میں رکھا گیا ہے۔منصوبے میں سنکیانگ، دریائے زرد کے بالائی علاقے اور حہ شی راہداری میں توانائی کے نئے ,بڑے مراکز کی مسلسل ترقی نیز سنکیانگ، شی زانگ اور شمال مغربی چین کے صوبے گانسو جیسے سرحدی علاقوں میں صاف توانائی کے مراکز کے لیے بجلی کی ترسیل کے نئے راستوں کی تجاویز دی گئی ہیں ۔

    2030 چین کے مقرر کردہ اہداف میں ایک اہم سال ہے جس میں چین نے اپنے کاربن اخراج کو عروج پر پہنچانے کا عہد کیا ہے۔ اسی سال میں مغرب سے مشرق کے لیے بجلی کی ترسیل کی صلاحیت 420 ملین کلو واٹ سے متجاوز ہونے کی توقع ہے۔ دوسری جانب، سنکیانگ کا قابل تجدید توانائی کا شعبہ رفتار پکڑ رہا ہے۔ 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران، سنکیانگ کی نصب شدہ نئی توانائی کی صلاحیت 169 ملین کلو واٹ تک پہنچ چکی تھی، جو کہ علاقے کی مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا 64 فیصد ہے۔

    سنکیانگ یونیورسٹی کے سینئر سکالر حہ منگ شنگ کے مطابق، سنکیانگ اب صرف توانائی اور وسائل کے ایک بڑے مرکز کے طور پر ہی نہیں پہچانا جاتا بلکہ یہ، چین کی سبز منتقلی میں ایک اہم ستون بن رہا ہے۔پندرھویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-2030) میں توقع کی جاتی ہے کہ یہ خطے کی سبز توانائی کی ترقی میں مزید رفتار پیدا کرے گا۔

    ذرائع نقل و حمل اور توانائی سے آگے، نئے پانچ سالہ منصوبے میں قومی ڈیٹا نیٹ ورک، سیٹلائٹ انٹرنیٹ اور وسیع بینڈ وڈتھ کوریج سمیت سرحدی علاقوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع کا بھی تقاضا کیا گیا ہے۔

    چین کے جنوب مغربی صوبے گوئے جو کے پہاڑی غاروں کو اب ڈیٹا سٹوریج سینٹرز کے طور پر دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ، جو پہلے چین کے انتہائی غربت زدہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا، ملک کی "ایسٹرن ڈیٹا، ویسٹرن کمپیوٹنگ" حکمت عملی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ،مشرقی ساحلی شہروں سے ڈیٹا کی طلب والے کمپیوٹنگ کاموں کو وسائل سے بھرپور مغرب کی طرف منتقل کرتا ہے۔ یہ ماڈل گوئے جو جیسے پہاڑی علاقوں میں سرمایہ کاری اور ملازمتیں فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی توانائی کی بچت کرنے والے کولنگ سسٹم کے لیے مقامی قدرتی فوائد سے بھی استفادہ کرتا ہے۔

    عوامی خدمات کے لحاظ سے، یہ پانچ سالہ منصوبہ سرحدی علاقوں میں تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال میں مزید سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے، جو منتشر منصوبوں سے زیادہ، مربوط عوامی خدمات کے نظام کی طرف ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ایسی سرمایہ کاری کے فوائد صوبہ یوننان کے جنوب مغرب میں واقع نوجیانگ پریفیکچر جیسے مقامات پر پہلے ہی نظر آ رہے ہیں، یہ علاقہ ماضی میں چین کے سب سے زیادہ غربت زدہ علاقوں میں شمار ہوتا تھا۔ یہاں کی چٹانوں پر جہاں پہلے صرف بکریاں گزرتی تھیں اب سڑکیں پھیلی ہوئی ہیں ، گہری کھائیوں پر سے گزرتے پل ،سب سے کٹے ہوئے پہاڑی دیہاتوں کو وسیع تر منظرنامے سے جوڑتے ہیں۔ وادیوں میں نیویگیٹ کرتے ڈرون ، ڈاک اور سامان پہنچاتے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ اور ای کامرس پلیٹ فارم دور دراز کمیونٹیز کو قومی مارکیٹ سے جوڑنے لگے ہیں۔

    محققین کی رائے میں نیا پانچ سالہ منصوبہ ایسے ہی مزید مواقع فراہم کرنے کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ سنکیانگ سوشل سائنسز اکیڈمی کے شعبہ عمرانیات کے سربراہ یانگ فو چھیانگ کہتے ہیں کہ ۔چین ہائی ٹیک مستقبل اور سرحدی ترقی کے درمیان انتخاب نہیں کر رہا ، چین ان دونوں کو اکٹھا کر رہا ہے، سرحد کو اپنی جدت کے اہداف کے حصول کے لیے ایک لازمی حصہ بنا رہا ہے۔

    زبان