
سولہ اپریل کو، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جنرل سیکریٹری اور چین کے صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں ویتنام کی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور ویتنام کے صدر تولام کے ساتھ ملاقات کی۔
شی جن پھنگ نے تولام کو، ویتنام کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد ان کا دورہ چین ، چین-ویتنام تعلقات کی ترقی اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ شی جن پھنگ نے کہا کہ چاہے بین الاقوامی صورتحال میں کوئی بھی تبدیلی آئے، چین ہمیشہ سے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی میں ویتنام کو ترجیح دیتا ہے اور ویتنام کے ساتھ مل کر اعلی معیاری حکمت عملی کے حامل چین-ویتنام مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کو تیز کرنے کا خواہاں ہے ۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ فریقین کو پارٹیز کے درمیان چینلز کے خصوصی کردار کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا چاہیے، اعلیٰ سطحی رابطوں کو فروغ دینا چاہیے اور باہمی سیاسی اعتماد کو مضبوط کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر جدیدیت کے راستے پر چلنا چاہیے اور امن، ترقی، تعاون اور باہمی مفادات کا علم بلند رکھتے ہوئے یک طرفہ پسندی اور تحفظ پسندی کی مخالفت کرنی چاہیے نیز آزاد عالمی تجارتی نظام اور صنعتی و سپلائی چین کے استحکام و روانی کو برقرار رکھنا چاہیے۔
اس موقع پر صدر تولام نے کہا کہ ویتنام ہمیشہ چین کے ساتھ روایتی دوستی کو جاری رکھنے، دونوں ممالک کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری اور اسٹریٹجک اہمیت کے حامل مشترکہ مستقبل پر مبنی معاشرے کی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے۔
ملاقات کے بعد، دونوں فریقوں نے پارٹیز، تحفظ عامہ ، عدلیہ، معیشت، سپلائی چین کے تعاون، کسٹم تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، عوامی فلاح، انسانی وسائل ، میڈیا اور مقامی تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی متعدد دستاویزات پر دستخط کیے جانے کا مشاہدہ کیا۔