6 مئی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) ۔ 6 مئی کو ، سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ ملاقات کی۔
وانگ ای نے ایران کی صورتحال پر چین کے اصولی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ چین ، اس جنگ کے آغاز سے ہی فعال طور پر امن مذاکرات کو فروغ دے رہا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے تحفظ اور فروغ کے لیے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ ایک چار نکاتی تجویز پیش کی، جس کا بین الاقوامی برادری کی جانب سے مثبت رد عمل آیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال جنگ اور تبدیلی کے ایک نازک موڑ پر ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ فوری طور پر عداوت کا مکمل خاتمہ ضروری ہے اور اس کا دوبارہ سے آغاز مزید نقصان دہ ہوگا نیز مذاکرات کی پاسداری خاص طور پر اہم ہے۔ چین، ایران کی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کی حمایت کرتا ہے اور سیاسی حل تلاش کرنے کی خواہش کی قدر کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے مسئلے پر، بین الاقوامی برادری نے آبنائے کے ذریعے محفوظ گزرگاہ کی بحالی کے بارے میں مشترکہ تشویش کا اظہار کیا ہے، چین امید کرتا ہے کہ متعلقہ فریق بین الاقوامی برادری کی پرزور درخواست کا جلد جواب دیں گے۔
جوہری معاملات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وانگ ای نے کہا کہ چین، جوہری ہتھیار نہ بنانے کے ایرانی عزم کی قدر کرتا ہے اور اس بات پر یقین رکھتاہے کہ ایران کو ایٹمی توانائی کے پر امن استعمال کا حق حاصل ہے۔ چین کا ماننا ہے کہ خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطی کے ممالک کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چین، اچھی ہمسائیگی پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ،ایران اور دیگر خلیجی ممالک کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تاکہ وہ ، علاقائی امن و سلامتی کا ڈھانچہ تشکیل دینے، مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنے اور مشترکہ ترقی کو حقیقت بنانے کے لیے علاقائی ممالک کی معاونت کریں۔
وانگ ای نے کہا کہ چین، صدر شی جن پھنگ کی چار نکاتی تجویز کی روح کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے تاکہ مشرق وسطی کے ممالک کو "چار مشترکہ گھروں" کی تعمیر میں مدد فراہم کی جا سکے۔ ہم صورتحال کو بہتر بنانے اور لڑائی کو کم کرنے کے لیے مزید کوششیں کریں گے، امن مذاکرات کے آغاز میں مدد جاری رکھیں گے اور مشرق وسطی میں امن و سکون کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین، ایران کا قابل اعتماد سٹریٹجک شراکت دار ہے۔چین، ایران کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد اور اعلیٰ سطحی تبادلوں کو برقرار و مستحکم کرنے،مختلف شعبوں میں باہمی مفادات پر مبنی تعاون کو مضبوط کرنے اور چین-ایران جامع سٹریٹجک شراکت داری کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ، عباس عراقچی نے چین پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جاسکتا ہے۔ ایران توقع کرتا ہے کہ چین امن کو فروغ دینے اور اس لڑائی کو ختم کرنے میں مثبت کردار ادا کرنا جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین ،ایران کا جامع سٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ایران ہمیشہ ایک چین کے اصول پر قائم رہا ہے اور چین کے بنیادی مفادات کے تحفظ میں اس کی حمایت کرتا آیا ہے۔ عباس عراقچی نے نشاندہی کی کہ رواں سال دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 55ویں سالگرہ ہے اور اسے ایک موقع کے طور پر لیتے ہوئے ایران، ہر سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے ، تعاون کی صلاحیت کو دریافت کرنے ، ایک دوسرے کی مضبوط حمایت کرنے اور ہر پہلو میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے تیار ہے اور ایران - چین جامع سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔
