29 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)۔ 27 مئی کو نیویارک میں ، چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی اعلیٰ سطحی کانفرنس کے دوران، وانگ ای نے امریکی سٹریٹجک اور بزنس کمیونٹییز کے نمائندو ں سے ملاقات کی ۔
وانگ ای نے کہا کہ چین اور امریکہ کے تعلقات دو طرفہ تعلقات کے دائرے سے زیادہ اہم ہیں جو عالمی امن پر اثر انداز ہوتے ہوئے انسانی مستقبل سے متعلق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم، مثبت اور پائیدار چین امریکا تعلقات بین الاقوامی برادری کی مشترکہ توقع اور دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ حال ہی میں چین اور امریکا کے سربراہان نے بیجنگ میں تاریخی ملاقات کی، جس میں چین- امریکا تعلقات اور عالمی امن و ترقی سے متعلق اہم مسائل پر کھلے دل سے تفصیلی ، تعمیری اور سٹریٹجک انداز میں بات چیت ہوئی اور متعدد اہم اتفاق رائے ہوئے۔ انہوں نے زور دیا کہ'' تائیوان کی علیحدگی'' اور آبنائے تائیوان کا امن و استحکام ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ صرف ایک چین کے اصول اور چین اور امریکا کے تین مشترکہ اعلامیوں کی روح پر عمل کر کے ہی آبنائے تائیوان میں امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور تصادم و مقابلے سے بچا جا سکتا ہے۔
وانگ ای نے مزید کہا کہ چین چاہتا ہے کہ امریکا کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے سربراہان کے اہم اتفاق رائے پر عمل درآمد کیا جائے اور" تعمیری سٹریٹجک مستحکم تعلقات" کو جلد از جلد عملی شکل دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں ۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام شرکا اس کے لیے فعال کوشش کریں گے اور وسیع تر سماجی اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد دیں گے۔
اس موقع پر وانگ ای نے چین کی معیشت، مصنوعی ذہانت اور ایران کی صورتحال سے متعلق سوالات کے جوابات بھی دیے۔

