29 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن) 28 مئی کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس کے اجلاس میں شرکت کی۔
اپنے خطاب میں، وانگ یی نے آج کی دنیا میں ،اقوام متحدہ کو زیادہ موثر بنانے ، سلامتی کونسل کو مزید مجاز ادارہ بنانے اور اس کی حیثیت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر زور دیا ۔وانگ ای نے کہا کہ عالمی انتظام و انصرام کی اصلاح اور بہتری اس نسل کا تاریخی مشن ہے، اس طرح کا کام مضبوط یقین اور مسلسل کوششوں کا متقاضی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی اصلاحات کا مقصد عالمی ادارے کو مضبوط کرنا ہے، نہ کہ اسے کمزور کرنا، ان اصلاحات کو رکن ممالک کی قیادت میں منصفانہ، شمولیت پر مبنی اور شفاف طریقے سے سر انجام دیا جانا چاہیے۔انہوں نے افریقا کے ساتھ ہونے والی تاریخی ناانصافی کو حل کرنے کے ذریعے ،ترقی پذیر ممالک نیز چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کی آواز کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا ۔
وانگ یی نے اقوام متحدہ کے امن مشن کو وقت کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے، ترقی کو تیز کرنے کے لیے بین الاقوامی اتفاق رائے قائم کرنے، انسانی حقوق کی عالمی گورننس کو صحیح سمت میں لے جانے اور اقتصادی و مالی نظام کی اصلاح کو گہرا کرنے کی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ۔انہوں نے مصنوعی ذہانت کی گورننس کے لیے قواعد تشکیل دینے، سائبر سپیس اور خلا جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں مضبوط گورننس اور تہذیبوں کے مابین زیادہ سے زیادہ تبادلوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وانگ یی نے کہا کہ گروپ آف فرینڈز آف گلوبل گورننس استحکام کے عنصر اور انصاف کی قوت کے طور پر کام کر چکا ہے اور اس میکانزم کو مزید فعال اور مضبوط بنانا چاہیے۔ چین کثیر جہتی کا علم برادر رہے گا، اسے برقرار رکھے گا اور اپنے گورننس کے تجربات کے ذریعے عالمی گورننس میں شراکت کرے گا۔
اجلاس میں پاکستان، ترکمانستان، قازقستان، کیوبا اور زمبابوے سمیت 60 سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ اور نمائندے شریک ہوئے۔
