مقامی وقت کے مطابق 6 جولائی کو اقوام متحدہ کے پہلے گلوبل اے آئی گورننس ڈائیلاگ میں اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر اور سوئٹزر لینڈ میں دیگر عالمی تنظیموں کے لیے چینی مندوب جیا گوئی دہ نے " مصنوعی ذہانت کے فرق کو ختم کرنے " کے موضوع پر ایک تقریر کی۔
جیا گوئی دہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت مختلف ممالک کے ترقیاتی ڈھانچے اور عالمی نظم و نسق کے نظام کو نئی شکل دے رہی ہے۔تمام فریقوں کو جامع شمولیت کے اصول کو بنیاد بناتے ہوئے ایسا ذہین اور ڈیجیٹل مستقبل تشکیل دینا چاہیے جو کھلا، پائیدار، منصفانہ، محفوظ اور قابل اعتماد ہو۔انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل خودمختاری کا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کی مصنوعات کے آزادانہ انتخاب کا حق حاصل ہے اور کسی بھی ملک کو دباؤ کے ذریعے کسی ایک فریق کا ساتھ دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
چینی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی جانب سے پیش کردہ " عالمی اے آئی گورننس انیشی ایٹو" تمام ممالک کو مصنوعی ذہانت کے فوائد سے مستفید ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔چین 2026 میں عالمی اے آئی کانفرنس اورعالمی اے آئی گورننس کی اعلیٰ سطحی کانفرنس کا انعقاد کرے گا اور تمام فریقوں کی فعال شرکت کا خیرمقدم کرتا ہے۔