• صفحہ اول>>سیاست

    شی جن پھنگ کا چین کی نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس ,چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ارکان کی جنرل اسمبلیز سے اہم خطاب

    (CRI)2026-07-08

    8 جولائی کو بیجنگ میں، چین کی نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس ، چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے ارکان کی جنرل اسمبلیز اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی گیارہویں قومی کانگریس منعقد ہوئی۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری ، صدر مملکت اور مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ نے ملک کے سائنس و ٹیکنالوجی کےاعلیٰ ترین ایوارڈز پیش کیے اور خطاب کیا۔

    شی جن پھنگ نے زور دیا کہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کا دور چین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بنانے کے لیے کی جانے والی جدوجہد کا اہم مرحلہ ہے۔ ہمیں تاریخی مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا، وقت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، اعلیٰ معیار کی سائنسی و تکنیکی خود انحصاری کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہوگا اور 2035 تک، چین کو سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بنانے کے ہدف کی جانب ثابت قدمی کے ساتھ پیش رفت کرنی ہوگی۔ سائنسی و تکنیکی جدت کے ذریعے چینی طرز جدیدیت کو مضبوط بنیاد فراہم کرنی ہوگی اور اس کی رہنمائی کرنی ہوگی۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی 18ویں قومی کانگریس کے بعد سے مرکزی کمیٹی نے ،سائنسی و تکنیکی جدت کو جدیدیت کی تعمیر میں نمایاں مقام دیا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کی مضبوط طاقت بننے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی، جدت پر مبنی ترقیاتی حکمتِ عملی پر گہرائی سے عمل درآمد کیا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے نظام میں جامع اصلاحات کیں، جس کے نتیجے میں چین کے سائنسی و تکنیکی شعبے میں تاریخی کامیابیاں کا حصول ہوا ہے اور تاریخی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ چین سائنس و ٹیکنالوجی کے عالمی میدان میں شریک اور معاون کے کردار سے تیزی سے ایک آغاز کنندہ اور رہنما کے کردار کی جانب بڑھ رہا ہے اور جدت طرازی کی صلاحیت میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ سائنسی و تکنیکی جدت میں منظم تحقیقی و ترقیاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور قومی جدت کے نظام کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی جدت اور صنعتی جدت کے گہرے انضمام کو فروغ دینا ہوگا، تاکہ سائنسی و تکنیکی کامیابیوں کو حقیقی پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے کے راستے مزید ہموار کیے جا سکیں۔

    انہوں نے کہا کہ سائنس کا مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اس لیے سائنس و تعلیم کے باہمی تعاون پر مبنی تربیتی نظام کو بہتر بنانا اور باصلاحیت نوجوان سائنسی ماہرین کی تیاری کو فروغ دینا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں سائنسی و تکنیکی شعبے کی بھرپور ترقی کے لیے پوری پارٹی اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوششیں درکار ہیں۔

    شی جن پھنگ نے امید ظاہر کہ دونوں اکیڈمیز کے ماہرین اپنے اعزازات کی قدر کریں گے، جدوجہد کا تسلسل جاری رکھیں گے اور سائنسی و تکنیکی میدان کے نئے شعبہ جات کو فروغ دینے، نوجوانوں کی سائنسی صلاحیتوں کی تربیت اور دیگر شعبوں میں مثالی اور رہنما کردار ادا کریں گے۔

    زبان