اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب سن لئی نے 9 جولائی کو سلامتی کونسل کے یوکرین سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی کے لیے بھرپور اقدامات کریں اور جلد جنگ بندی اور لڑائی کے خاتمے کے لیے سازگار حالات پیدا کریں۔
چینی نائب مندوب نے کہا کہ یوکرین کی موجودہ صورتحال تشویشناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ فریقین کی جانب سے بار بار کیے جانے والے فوجی حملوں کی شدت، حجم اور دائرۂ کار ماضی کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والے ہر حملے کی مذمت کرتا ہے اور متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ شہریوں اور شہری بنیادی تنصیبات پر حملے فوری طور پر بند کیے جائیں۔
سن لئی نے کہا کہ یوکرین کے مسئلے پر چین ہمیشہ غیر جانبدار اور منصفانہ مؤقف اپنائے ہوئے ہے۔ چین اس بحران کے سیاسی حل کے لیے پُرعزم ہے، تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اپنے انداز میں امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر بحران کے جلد سیاسی حل کے لیے آئندہ بھی تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔