19 تاریخ کو تائیوان کی ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی نے اپنے کل رکنی اجلاس کا انعقاد کیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے تائیوان کے رہنما لائی چھنگ دہ نے ایک بار پھر " آبنائے تائیوان کے دونوں کنارے ایک دوسرے کے ماتحت نہیں ہیں " جیسے علیحدگی پسندانہ بیانات دیے۔ چین کی ریاستی کونسل کے تائیوان امور کے دفتر کی ترجمان زانگ ہان نے 22 جولائی کو ایک باقاعدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈی پی پی کے کل رکنی اجلاس میں لائی چھنگ دہ کے اشتعال انگیز بیانات نے ایک بار پھر "تائیوان کی علیحدگی " پر اس کی ضد کو بے نقاب کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور ماضی میں بھی کبھی ایک ملک نہیں تھا، نہ آج ہے اور نہ مستقبل میں ہوگا۔ تائیوان کا مسئلہ گزشتہ صدی کی 1940 کی دہائی میں چینی خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ایک تاریخی مسئلہ ہے۔ ترجمان نےاس بات پر زور دیا کہ تائیوان میں کسی بھی طریقے سے کوئی بھی رہنما منتخب ہو جائے، وہ چین کے ایک حصے کے طور پر تائیوان کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس بنیادی حقیقت کو بدل سکتا ہے کہ تائیوان کے مستقبل کا فیصلہ صرف تائیوان کے ہم وطنوں سمیت تمام چینی عوام کر سکتے ہیں۔