
22 جولائی کو، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیئن نے یومیہ پریس کانفرنس میں صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے عالمی سائبر سیکورٹی کے مستقل نظام کے پہلے اجلاس میں چین کی جانب سے جمع کرایا گیا "ڈیجیٹل اور ذہین دور میں عالمی سائبر گورننس پر چین کا موقف نامہ" عالمی نظم و نسق کے اقدامات کو عملی جامہ پہنانے اور سائبر اسپیس کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو فروغ دینے کی تازہ ترین کاوش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دستاویز میں تمام ممالک کی ڈیجیٹل خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے قومی حالات کے مطابق مصنوعی ذہانت سمیت ڈیجیٹل اور ذہین ٹیکنالوجیز کی ترقی کا راستہ خود منتخب کرے، نیز مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی، مصنوعات اور خدمات کے انتخاب میں بھی مکمل خودمختاری رکھے۔ان ممالک کو دھمکی دے کر کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ سائبر خودمختاری کے بعد عالمی سائبر گورننس کے حوالے سے چین کی جانب سے پیش کیا گیا ایک اور اہم اصول ہے۔