• صفحہ اول>>چین پاکستان

    دو دہائیوں سے پاکستان میں جغرافیائی خطرات کی شدت کو کم کرنے میں مصروف عمل چینی سائنسدان

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-17

     چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کی مجلسِ علمی کے رکن، تسوئی پھینگ نے خود کو چین اور پاکستان میں جغرافیائی خطرات میں کمی پر تحقیق کے لیے وقف کر رکھا ہے۔

    بیجنگ میں اولمپک پارک کے قریب موجود دفتر میں، دستاویزات کے ڈھیر کے درمیان تسوئی مکمل طور پر اپنے کام میں محو ہیں۔ ان کے بالوں میں چاندی جھلک رہی ہے، لیکن ان کا جسم اب بھی توانائی سے بھرپور ہے اور سائنسی تحقیق کے لیے مستقل لگن ان کے معمولات کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سائنس کو شہرت یا اعزاز حاصل کرنے کے لیے نہیں چنا۔

    جغرافیائی خطرات کے حوالے سے وسیع تجربے و تحقیق کے حامل تسوئی پھینگ نے، اپنی تحقیق کو صرف چین تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان میں آفات کے خطرات میں کمی کے لیے انہوں نے دو دہائیاں وقف کی ہیں۔

    15 مئی 2026۔ تسوئی پھینگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی سے ستارہ امتیاز وصول کررہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ :تسوئی پھینگ)

    15 مئی 2026۔ تسوئی پھینگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی سے ستارہ امتیاز وصول کررہے ہیں۔ (تصویر بشکریہ :تسوئی پھینگ)

    چین-پاکستان سائنسی وتکنیکی تعاون کے لیے ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں رواں سال مئی میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارہ امتیاز کے اعزاز سے نوازا۔ یہ اطلاع انہیں ورلڈ ٹیکنالوجی اینڈ ڈویلپمنٹ فورم2025 کے دوران ملی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت چین میں پاکستانی سفارت خانے کے سائنس و ٹیکنالوجی کے مشیر خان محمد نے انہیں اس حوالے سے مطلع کیا اور انہوں نے یہ خبر فوراً اپنی ٹیم کے ساتھ شیئر کی کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ اعزاز صرف ان ہی کا نہیں تھا۔ اس ایوارڈ کے حصول کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پہچان ملنا واقعی ایک اعزاز ہے لیکن اس سے ان کی جغرافیائی خطرات میں کمی کے عزم میں کوئی ٹھہراو یا تبدیلی نہیں آئے گی۔

    چین-پاکستان تعاون ایک مشترکہ سعی

    پاکستان کے ساتھ تسوئی پھینگ کی طویل مدتی شراکت داری، اکتوبر 2005 میں اس وقت سے شروع ہوئی، جب پاکستان میں 7.6 شدت کا زلزلہ آیا۔ اس ہولناک زلزلے میں ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہوگیا۔ قراقرم ہائی وے کے توسیعی منصوبے کو بڑے ثانوی جغرافیائی خطرات کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    زلزلے کے فوراً بعد، تسوئی نے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹی گریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ کے ایک تعلیمی فورم پر جغرافیائی خطرات کے میکانزم اور تخفیف سے متعلق اپنی تحقیق پیش کی۔ اس تحقیق نے محمد آصف خان کی توجہ حاصل کی جو کہ CAS کی مجلسِ علمی کے ایک غیر ملکی رکن اور اس وقت، پشاور یونیورسٹی میں جیولوجی کے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس کے ڈائریکٹر تھے۔ محمد آصف نے تسوئی کو تعمیر نو کے لیے تکنیکی رہنمائی فراہم کرنے کی دعوت دی۔

    تسوئی جو اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ جغرافیائی سائنس انسانیت کی بہبود کے کام آنی چاہیے، انہوں نے 2006 کے اوائل میں پاکستان کا سفر کیا، جس سے جغرافیائی خطرات پر تحقیق کے لیے چین-پاکستان کے درمیان تعاون کے 20 سالہ سفر کا آغاز ہوا۔ تسوئی کے شاگرد اور معاون، وو یاچیاؤ کہتے ہیں کہ خطرات کو مکمل طور پر ختم کرنا ناممکن ہے، لیکن ہم ہر مشن سے پہلے اچھی طرح سے جانچ اور تیاری کرتے ہیں۔ البتہ، پہاڑوں کے سخت حالات غیر متوقع خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

    جنوری 2010 میں، شمالی پاکستان میں مٹی کا ایک تودہ گرنے کے باعث، دریائے ہنزہ کا بہاو رک گیا جس کے نتیجے میں عطا آباد جھیل بنی اور قراقرم ہائی وے کا 19 کلومیٹر علاقہ زیر آب آگیا۔غیر مستحکم بند میں شگاف پڑنے کا خطرہ تھا جو نیچے کئی علاقوں میں تباہ کن سیلاب کا باعث بن سکتا تھا۔ سیلابی صورتِ حال کا اندازہ لگانے کے لیے تسوئی نے کشتی کے ذریعے جھیل کا معائنہ کیا۔

    2010 میں، تسوئی پھینگ (دائیں جانب سے دوسرے)، وادیِ ہنزہ میں صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (تصویر: تسوئی پھینگ کی جانب سے فراہم کردہ)

    2010 میں، تسوئی پھینگ (دائیں جانب سے دوسرے)، وادیِ ہنزہ میں صورتِ حال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (تصویر: تسوئی پھینگ کی جانب سے فراہم کردہ)

    اپنے وادی ہنزہ کے اس تجربے کو یاد کرتے ہوئے تسوئی بتاتے ہیں کہ، ہمیں ایک لکڑی کی مقامی کشتی استعمال کرنی پڑی جو کہ سامان سے بھری ہوئی ہونے کی وجہ سے پانی میں نیچے کی طرف ڈولتی اور ہوا کے زور سے جھول رہی تھی جس کی وجہ سے انہیں بے حد تشویش ہو رہی تھی، لیکن انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنے کے عادی تسوئی نے لوگوں کی زندگیوں کو اولین ترجیح دی اور مقامی افراد نے بھی محفوظ طور پر پار اترنے کے لیے ایک بڑی کشتی فراہم کی۔

    تسوئی اور ان کی ٹیم نے 2008 میں سچوان میں آنے والے زلزلے کے دوران، پانی کا بہاو رکنے سے بننے والی 256 جھیلوں کا معائنہ کیا اور 17 انتہائی خطرے والے علاقوں کی نشاندہی کی۔ ان کے اس تجربے اور علم نےچینی اور پاکستانی ٹیمز کو عطا آباد ڈیم پر پانی کا رخ پھیرنے والے راستے بنانے میں مدد فراہم کی جس سے پانی کی سطح 30 میٹر کم ہوئی اور شگاف پڑنے کے خطرات میں کمی آئی۔ قراقرم ہائی وے پانی سے نکلی اور عطا آباد جھیل سیاحتی مقام بن گئی۔

    پاکستان میں 2022 کے سیلاب کے دوران لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات سامنے آئے تو یہ دونوں ٹیمز بے حد اہم ثابت ہوئیں، تسوئی کی ٹیم نے نقصانات کا تجزیہ کرنے کے لیے سیٹلائٹ ریموٹ سینسرز کا استعمال کیا، جب کہ پاکستانی ماہرین نے زمینی اعداد و شمار کی تصدیق کی۔ مشترکہ بریفنگز نے پاکستان کے ایمرجنسی ردعمل میں بے حد معاونت فراہم کی۔

    سائنسی تعاون کے لیے باصلاحیت افراد کو سامنے لانا

    چین-پاکستان جیوسائنس تعاون کے لیے پائیدار بنیادوں کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے تسوئی نے چین-پاکستان مشترکہ تحقیقاتی مرکز برائے ارضیاتی سائنسز (CPJRC) کی بنیاد رکھی اور چین کی جانب سے اس کے پہلے ڈائریکٹر رہے۔

    اگرچہ وہ باضابطہ انتظامی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو چکے ہیں، لیکن بنیادی تحقیق اور باصلاحیت افراد کو سامنے لانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات کے خطرے کا اندازہ لگانے اور ابتدائی انتباہی نظام کی ترقی سے لے کر، چین کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی اور چائنیز سائنس اکیڈمی کے ساتھ مل کر ہزاروں پاکستانی طلبہ اور اہلکاروں کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کرنے تک، تسوئی کی مسلسل محنت اور لگن سے دوطرفہ سائنسی تعاون کے لیے مفید اور دیرپا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

    انتہائی مصروف تحقیقاتی شیڈول کے باوجود تسوئی پھینگ، ڈاکٹریٹ کے امیدواروں کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں کئی پاکستانی طلبہ بھی شامل ہیں۔ وہ کہتے ہین کہ پاکستانی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا ایک قیمتی موقع ہے اور یہ طلبہ بے حد محنت کرتے ہیں۔

    2023 میں، تسوئی پھینگ (درمیان میں) ، چین-پاکستان مشترکہ تحقیقاتی مرکز برائے ارضیاتی سائنسز کے فیلڈ آبزرویشن نیٹ ورک کی تعمیر کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (تسوئی پھینگ کی جانب سے فراہم کردہ تصویر)

    2023 میں، تسوئی پھینگ (درمیان میں) ، چین-پاکستان مشترکہ تحقیقاتی مرکز برائے ارضیاتی سائنسز کے فیلڈ آبزرویشن نیٹ ورک کی تعمیر کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (تسوئی پھینگ کی جانب سے فراہم کردہ تصویر)

    فارغ التحصیل پاکستانی طلبہ میں سے کچھ، سی پی جے آر سی میں ہی رک گئے تاکہ وہ اس کے زیر انتظام قراقرم-ماحولیاتی خطرات کے مشاہداتی سٹیشن کو چلانے میں مدد دیں۔ دیگر طلبہ اپنے ملک واپس جا کر پاکستانی جامعات اور تحقیقی اداروں میں کام کررہے ہیں۔ دو دہائیوں پہلے سائنسی تعاون کے جو بیج بوئے گئے تھے وہ اب جڑ پکڑ چکے ہیں، علم اور دوستی ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہے ہیں۔

    دو دہائیوں تک سرحد پار کی جانے والی تحقیق کے بارے میں تسوئی کہتے ہیں کہ، ہمارے سائنسی کام کا مقصد جغرافیائی خطرات کی کمی کو برقرار رکھنا ہے، تاکہ انسانیت کو درپیش عمومی خطرات کا سامنا کیا جا سکے۔ چاہے ہم گھر میں کام کر رہے ہوں یا بیرون ملک، ہمارا مشن ایک ہی ہے: قدرتی آفات کے نقصانات کو کم سے کم کرنا اور زندگیوں کی حفاظت کرنا۔

    ویڈیوز

    زبان