• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    مشن ان لاک قسط 6: دیواری تصاویر غار سے باہر کیسے آئیں؟

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-08-19

    19اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشن ان لاک کی چھٹی قسط میں مینا، صوبہ گانسو کے شہر دون حوانگ میں، دون حوانگ موگاو گروٹوز ڈیجیٹل ایگزیبشن سینٹر میں پہنچتی ہے۔ یہاں مینا دیکھتی ہے کہ ایک نوعمر بچہ، غار 285 میں داخل نہیں ہو پا رہا ہے کیونکہ تمام دستیاب اوقات کار پہلے ہی بک ہو چکے ہیں۔

    دیوار پر بنی ایک پرواز کرتی ہوئی اپسرا سے ابھرنے والی چمک دار پٹی کی پیروی میں، وہ ایک ڈیجیٹل غار کے پیداواری مرکز میں داخل ہوتی ہے۔ وہاں اسے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن صرف قدیم دیواروں کی تصاویر لینے سے کہیں آگے کی بات ہے۔ یہ عمل نہ صرف ان کے رنگوں اور پیچیدہ تفصیلات کو محفوظ رکھتا ہے، بلکہ غاروں کے اندر روشنی، جگہ اور وقت کا احساس بھی محفوظ کرتا ہے۔ دلچسپ نمائشوں اور وی آر ٹیکنالوجی کے ذریعےسیاح، روایتی چینی طرزِ تعمیر کی چھت کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں، پرواز کرتی ہوئی اپسرا کے قریب جا سکتے ہیں اور ایسا محسوس کر سکتے ہیں کہ جیسے وہ ماضی میں سفر کرتے ہوئے غار کے اندر کھڑے ہوکر، اسی منظر کو اپنے سامنے دیکھ رہے ہیں جو کاریگروں نے ایک ہزار سال پہلے دیکھا تھا۔ مینا نے جانا کہ ٹیکنالوجی کا مقصد اصل ورثے کی جگہ لینا نہیں، بلکہ اسے وہ پر دینا ہے کہ جن کی مدد سے ساکت ثقافتی خزانے غار سے باہر نکل سکیں، مزید لوگوں تک پہنچ سکیں اور ان میں ان خزانوں کے تحفظ کی حقیقی خواہش پیدا کرسکیں۔

    پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے خاکے میں، ثقافتی ترقی کو ڈیجیٹل اور انٹیلی جنٹ ٹیکنالوجیز کے ذریعے بااختیار بنانے، آئی ٹی پر مبنی ترقی کے ماڈل کی طرف منتقل ہونے اور ثقافتی کاروبار کی نئی شکلوں کو فروغ دیتے ہوئے، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے مزید انضمام کی بات کی گئی ہے۔

    ورثے کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ کبھی بھی ماضی میں منجمد ہونا نہیں بلکہ اس بات کی سہولت فراہم کرنا ہے کہ ہزاروں سال کے فاصلے کے باوجود بھی لوگوں سے بات کی جا سکے۔ آج بھی جب ایک قدیم برش سٹروک کسی کی توجہ اپنی جانب کھینچتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماضی کبھی بھی اوجھل نہیں ہوتا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان