19اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشن ان لاک کی ساتویں قسط میں مینا، جدید زراعت کی تبدیلی کا جائزہ لینے کے لیے مقامی ناشپاتی کی صنعت کو نمائندہ کیس کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، مشرقی چین کے صوبے آن ہوئی کی کاونٹی دانگ شان کا دورہ کرتی ہے۔
یہاں مینا کی ملاقات نوجوان کاروباری شخص لِن یوان سے ہوتی ہے، جو جدید ٹیکنالوجیز کے ذریعے روایتی زراعت کو جدید بنانے کے لیے اپنے آبائی شہر واپس آیا ہے۔ تاہم، اس کی کوششوں کو مقامی کسانوں کی جانب سے شک و شبہے اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بات، زراعت کی تبدیلی کے دوران اعتماد سازی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھتی ہیں، مینا کو احساس ہوتا ہے کہ دانگ شان کی ناشپاتی محض ایک زرعی جنس نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مربوط ماحولیاتی نظام ہے جو بیج کی جدت، سمارٹ زرعی آلات، ڈیجیٹل گورننس اور جدید مارکیٹ ڈسٹریبیوشن شامل ہے۔
زرعی جدیدیت کی روح، ٹیکنالوجی یا نئی پیداواری قوتوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ آیا یہ نئی پیداواری قوتیں اور متعلقہ پیداواری طریقے، واقعی زرعی نظام کی تشکیل نو کر سکتے ہیں، کسانوں کا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں اور پائیداری سے مسابقت میں تبدیل ہو سکتے ہیں یا نہیں۔
پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں بیان کیا گیا ہے کہ چین زراعت اور دیہی ترقی کو ترجیح دے گا، دیہی بحالی کے لیے طویل مدتی میکانزم کو مضبوط کرے گا اور جدید زراعت کی ترقی کو تیز کرے گا۔



