چین میں پاکستان کے سفیر محترم خلیل ہاشمی کا انٹرویو

21اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کو رواں سال مئی میں، چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے "آوٹ سٹینڈنگ ڈپلومیٹ میڈل" دیا گیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے کے بعد خلیل ہاشمی نے کہا کہ یہ میڈل صرف ان کی ذاتی کاوشوں کا اعتراف نہیں، بلکہ پوری ٹیم کی خدمات کا اعتراف ہے۔ اس ٹیم میں پاکستان اور چین کے سفارت خانوں کا تمام عملہ اوروہ تمام لوگ شامل ہیں جنہوں نے پاک-چین دوستی کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔
نومبر 2023 میں چین میں پاکستان کا سفیر مقرر کیے جانے سے قبل بھی خلیل ہاشمی 2008سے 2010 تک، پاکستانی سفارت خانے میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ گزشتہ ڈھائی سال سے زیادہ عرصے میں انہوں نے تین اہم شعبوں، دوطرفہ تجارتی تعاون، پیشہ ورانہ و تکنیکی تعلیم میں تعاون اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ پر توجہ مرکوز کی۔ خاص طور پر دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر، چینی اور پاکستانی فنکاروں نے مل کر چینی اور اردو زبان کے خوبصورت امتزاج سے "پاک-چین دوستی" کا شاندار گیت پیش کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستانی آم کے میلے جیسی منفرد تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا۔ خلیل ہاشمی کا کہنا تھا کہ یہ میڈل مزید محنت کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی ترغیب دیتا ہے۔
پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خلیل ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور مستحکم دوستانہ تعلقات کا قیام واقعی قابل قدر ہے۔ گزشتہ 75 سالوں میں دونوں ممالک نے باہمی اعتمادو احترام اور باہمی حمایت کی بنیاد پر مضبوط دوستی قائم کی ہے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی دوراندیشی اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی محنت نے پاک-چین تعلقات کو ہمیشہ مستحکم رکھا ہے۔ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی فورمز پر، دونوں ممالک ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے اور کثیرالجہت تعاون کو فروغ دیتے ہوئے، عالمی امن، انصاف اور باہمی فائدے کے لیے کردار ادا کرتے آرہے ہیں۔
دو طرفہ تعلقات میں، دونوں ممالک کے رہنماؤں کی سٹریٹجک رہنمائی ،کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ دس سال سے جاری کامیاب تعاون کے بعد، چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے پاکستان میں نقل و حمل، توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو تیز کیا ہے اور پاکستانی معیشت کی رفتار اور معیار کو بہتر بنایا ہے۔ خلیل ہاشمی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں دونوں ممالک زراعت، کان کنی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کو مضبوط کریں گے، تاکہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے 'ورژن 2.0' کو آگے بڑھایا جائے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔"
چین میں اپنی تعیناتی کے دوران دوران خلیل ہاشمی، چین کے تقریباً تمام صوبوں کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان کی رائے میں شی زانگ کے دریا اور پہاڑ سکون کا احساس دلاتے ہیں، شان دونگ کے کاؤنٹی شوگوانگ کی سبزیاں بہت لذیذ ہیں اور حہ لونگ جیانگ کےشہر ہاربن کا آئس اینڈ سنو فیسٹیول یادگار تجربہ ہے۔ چین میں حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے گرین ٹیکنالوجیز کو تیزی سے فروغ دیا ہے، جن میں نئی توانائی کی گاڑیاں، پاور بیٹریز، سولر پاور جنریشن اورونڈ پاور جنریشن شامل ہیں، جنہوں نے نہ صرف چین کی سبز ترقی کو فروغ دیا، بلکہ ترقی پذیر ممالک سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کو بھی فائدہ پہنچایا ہے۔
چینی معیشت میں "سٹریٹجک طور پر اہم تبدیلی" آئی ہے اور اب وہ "تیز رفتار ترقی کے مرحلے سے اعلیٰ معیار کی ترقی کے مرحلے" کی طرف بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ دس سالوں میں، چین نے خلائی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور نئی توانائی کی گاڑیوں میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل کیں۔ خلیل ہاشمی کے خیال میں، چین دنیا کے ساتھ باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کےفلسفے پر یقین رکھتا ہے۔ چین کی سائنسی و تکنیکی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، تجربات جمع ہو رہے ہیں اور اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے ذریعے چین، دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ نئے مواقع کا اشتراک کر رہا ہے۔
خلیل ہاشمی نے کہا کہ انہوں نے چین میں تائی چی سیکھی اور چینی فلسفے و حکمت کو مزید گہرائی سے سمجھا۔ ان کا ماننا ہے کہ بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کا تصور، موجودہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے ایک روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔ یہ تصور قدیم چینی حکمت کا جدید اظہار ہے۔ بنی نوع انسان کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کا تصور ، بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور چار عالمی اقدامات ایک جامع عملی منصوبہ تشکیل دیتے ہیں، جو دنیا کو زیادہ پرامن، محفوظ اور خوشحال سمت میں لے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک بہتر مستقبل بنانے کے لیے، دنیا کے تمام ممالک کو مشترکہ اقدامات کرنے چاہئیں۔



