21اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 20اگست کو، آل-چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کی جانب سے جاری کیے گئے ایک منصوبے کے مطابق، چین 2030 تک، صنعتی شعبے سے وابستہ کم از کم 30 لاکھ مزدوروں کی تعلیم اور صلاحیتوں کی مزید ترقی کے لیے مالی مدد فراہم کرے گا۔
یہ منصوبہ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کی مدت (2026-2030) کا احاطہ کرتا ہے، جس میں صنعتی شعبے سے منسلک مزدوروں کی صلاحیتوں کی ترقی کے نظام کو بہتر بنانے اور ان کی ہمہ جہتی ترقی کو فروغ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔
منصوبے میں، ہنر مندوں کے ہنر کی آبیاری کے لیے بھی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ چین کا ہدف 2030 تک قومی سطح کے تقریباً 1,000 ماسٹر آرٹسٹ، صوبائی سطح کے 5,000 ماسٹر آرٹسٹ اور شہری سطح کے 25,000 ماسٹر آرٹسٹ تیار کرنا ہے۔ منصوبے کے مطابق، توقع ہے کہ 2030 تک ماڈل ورکرز اور ماسٹر آرٹسٹس کے لیے انوویشن سٹوڈیوز کی کل تعداد 160,000 ہو جائے گی۔
یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین اپنے صنعتی شعبے کو اپ گریڈ کرنے کی کوششیں تیز کر رہا ہے اور ملک کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں جدید صنعتی نظام کی تشکیل کو اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔
چین نے "مادی اثاثوں اور انسانی سرمائے" دونوں میں سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک دوہری حکمت عملی بھی مرتب کی ہے تاکہ جدت پر مبنی، طلب کی بنیاد پر ترقی کو آگے بڑھایا جا سکے، جس میں افرادی قوت کو پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت سے لیس کرنے کے اہم شعبوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
آل-چائنا فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز کے منصوبے میں پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت کے نظام کو بہتر بنانے اور مزدوروں کی صلاحیتوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، "اے آئی پلس" کے تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے، ساتھ ہی صنعتی مزدوروں کے لیے نیشنل سکلز پلیٹ فارم کو بھی ترقی دی جائے گی۔مہاجر مزدوروں، ملازمت کی سامنے آنے والی نئی اقسام میں کام کرنے والوں اور نوجوان مزدوروں کے لیے تربیتی خدمات کو بھی مضبوط کیا جائے گا، جب کہ سیکھنے کے آن لائن اور آف لائن طریقہ کار کو یکجا کرنے کے لیے کرافٹس مین کالجز کا ایک نظام بھی تشکیل دیا جائے گا۔
چین کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی تحفظ وانگ شیاوپھنگ کا کہنا ہے کہ چین اس سال، پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت کو بڑے پیمانے پر وسیع اور مضبوط کرے گا۔ اہداف پر مبنی تربیت کم ارتفاع کی معیشت، نئی توانائی کی گاڑیوں، اے آئی اور بزرگوں کی دیکھ بھال کی خدمات جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی، تاکہ صلاحیتوں کی ترقی کو بہتر طور پر صنعت اور روزگار کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔



