
25 اگست کو چین اور بھارت کے سرحدی امور پر خصوصی نمائندوں کی 25ویں ملاقات بیجنگ میں ہوئی۔ چین کے خصوصی نمائندے، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور سی پی سی مرکزی کمیٹی کے امور خارجہ دفتر کے ڈائریکٹر وانگ ای نے بھارت کے خصوصی نمائندے اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ سرحدی مسئلے اور دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امور پر دوستانہ اور کھلے انداز میں تبادلۂ خیال کیا۔
وانگ ای نے کہا کہ چین۔بھارت تعلقات اب دوطرفہ دائرے سے آگے بڑھ چکے ہیں اور عالمی و تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں صدر شی جن پھنگ اور وزیراعظم نریندر مودی نے قازان اور تھیان جن میں دو مرتبہ ملاقات کی اور متعدد امور پر اہم اتفاق رائے سامنے آیا ، جس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور ترقی کی سمت متعین کی ہے۔
وانگ ای نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ تزویراتی اور طویل مدتی نقطۂ نظر سے دوطرفہ تعلقات کے فروغ، رابطوں کو مضبوط بنانے، باہمی سمجھ بوجھ بڑھانے، اختلافات دور کرنے اور رکاوٹوں پر قابو پانے کے لیے تیار ہے، تاکہ دونوں ممالک اچھے ہمسایہ دوست اور ایک دوسرے کی ترقی میں معاون شراکت دار بن سکیں۔
وانگ ای نے کہا کہ دونوں فریق خصوصی نمائندوں کی ملاقاتوں میں طے پانے والے اتفاق رائے پر منظم انداز میں عمل درآمد کر رہے ہیں۔ فریقین کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا چاہیے، سرحدی مسئلے کو دوطرفہ تعلقات میں مناسب مقام دینا چاہیے اور مذاکرات، امن، مشاورت اور تعاون کو غالب رجحان بنانا چاہیے، تاکہ چین۔بھارت تعلقات کی صحت مند اور مستحکم ترقی میں مثبت عوامل پیدا کیے جا سکیں۔
دونوں فریقوں نے سرحدی حد بندی کے مذاکرات کو آگے بڑھانے، سرحدی انتظام کو بہتر بنانے، متعلقہ نظام کو مزید مستحکم کرنے اور سرحد پار تعاون کو فروغ دینے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، تاکہ منصفانہ، منطقی اور دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول سرحدی حل تلاش کیا جا سکے۔