26 اگست کو چین کی وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمہ برائے مواصلاتی ترقی کے ڈائریکٹر جنرل لیو یوئی لین نے چین کی ریاستی کونسل کے دفترِ اطلاعات کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ چین کے مصنوعی ذہانت کے اوپن سورس ماڈلز کو، 14ویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز سے اب تک عالمی سطح پر 10 ارب سے زائد مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران چین مصنوعی ذہانت سمیت نئی نسل کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کردار کو بہتر طور پر بروئے کار لائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری مزید بڑھائے گی اور متعدد اہم ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کے لیے کوششیں تیز کرے گی۔ چین "مصنوعی ذہانت پلس سافٹ ویئر" ایکشن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے بنیادی اور صنعتی سافٹ ویئر کی سمارٹ اپ گریڈیشن کی حمایت کرے گا۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف صنعتوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ استعمال کے نئے منظرنامے وسیع پیمانے پر متعارف کرائیں، تاکہ مختلف سافٹ ویئرز اور سمارٹ ایجنٹس کو حقیقی ماحول میں مسلسل بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اوپن سورس ٹیلنٹس کی تربیت کو مضبوط بنایا جائے گا اور صنعت سے وابستہ افراد اور ڈویلپرز کے لیے زیادہ سازگار اور دوستانہ ترقیاتی ماحول فراہم کیا جائے گا۔