
چھبیس اگست کی صبح ، تقریباً ساڑھے 10 بجے نیپال کی جانب آنے والی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث چین کے شی زانگ خوداختیار علاقے کے شیگاتسے شہر کی جی رونگ کاؤنٹی کے جی رونگ بارڈر پورٹ پر بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور کئی افراد لاپتا ہو گئے ۔
چھبیس تاریخ کی رات آٹھ بجے تک ابتدائی تصدیق کے مطابق، اس لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور 265 افراد لاپتا ہیں۔ تاہم جانی نقصان اور زخمیوں کی حتمی تعداد کی مزید تصدیق جاری ہے۔ اس وقت مختلف امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقے کی جانب روانہ ہو چکی ہیں۔
جی رونگ بارڈر پورٹ سے تقریباً 2.5 کلومیٹر دور ملبے کے باعث ایک جھیل بھی دیکھی گئی ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ملبے کی موٹائی تقریباً 1.5 میٹر تک پہنچ گئی ہے، جس سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
26 اگست کو مقامی وقت کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بیان میں چین اور نیپال میں پیش آنے والی شدید قدرتی آفت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات اور تمام متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس کے علاوہ جرمنی کے چانسلر فریڈرش میرس نے بھی 26 اگست کی شب سوشل میڈیا پر کہا کہ چین اور نیپال میں پیش آنے والی شدید آفت پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔