30اگست کوچین کے شی زانگ خود اختیار علاقے کی عوامی حکومت کی پریس کانفرنس میں شی زانگ میں مڈ سلائیڈکی وجہ واضح ہو گئی ہے۔ چائنا اکیڈمی فار سائنس کی چھنگ دو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹین ہیزرڈز اینڈ انوائرمنٹ کی برفانی خطے سے متعلق ہنگامی امدادی ٹیم نے ریموٹ سینسنگ نگرانی کے ڈیٹا اور جائے وقوعہ سے بھیجی گئی تصاویر کا تجزیہ کرنے، اور زمینی معائنے و انٹرویوز کے بعد مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ: بیجنگ وقت کے مطابق 26 اگست کو صبح 10بج کر 52 منٹ کے لگ بھگ، نیپال کی حدود میں لانگ تانگ لی رینگ چوٹی کی شمالی ڈھلوان پر ایک گلیشیر 5200 میٹر کی بلندی پر ٹوٹا اور برفانی تودے کی شکل میں اونچائی سے تیزی سے گرتا ہوا 4000میٹر کے قریب پہنچا، جہاں پہاڑی ڈھلانوں کو بہا کر اس نے ایک بڑے وسیع پہاڑی سیلاب کی شکل اختیار کر لی اور تقریباً 22 کلومیٹر تک تیز رفتاری سے بہتا ہوا 1800میٹر کی بلندی پر واقع چین کے گیرونگ بندرگاہی علاقے تک پہنچا۔اس شدید سیلاب کے نتیجے میں اس علاقے کا تقریباً صفر اعشاریہ سات مربع کلومیٹر حصہ، 27عمارتیں اور متعلقہ ضمنی سہولیات زیر آب آ گئی ۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ تباہی طویل عرصے سے جاری موسمیاتی حدت کے باعث گلیشیر کے غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے آئی ۔یہ آفت اچانک رونما ہوئی ، اس سیلاب کا بہاؤ بہت زیادہ تھا، رفتار تیز تھی ، جبکہ اس کی تباہ کاری اور متاثرہ علاقے کا دائرہ بھی وسیع تھا۔ یہی وہ نئی نمایاں وجوہات ہیں جو اب چھنگ ہائی-تبت سطح مرتفع اور اس کے گرد و نواح میں فریزنگ سرکل کی آفات کی صورت میں سامنے آ رہی ہیں۔نگرانی سے پتہ چلا ہے کہ گلیشئیر کے ٹوٹنے سے لے کر چین کے گیرونگ بندرگاہی علاقے تک پہنچنے میں تقریباً 6سے 7 منٹ لگے۔
تجزیے کے مطابق، اس آفت کے بعد کی امدادی کارروائیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ عارضی بند ہے جو سرحدی دروازے کے مرکزی علاقے کے اوپر ہے۔ یہ بند اب پانی سے بھر چکا ہے اور آہستہ آہستہ پانی چھوڑ رہا ہے ۔ فی الحال مجموعی طور پر اس کی صورتحال مستحکم ہے، اور اس کے مکمل ٹوٹنے کا امکان کم ہے۔
آفت کے بعد شی زانگ نے فوری طور قدرتی آفت کی لیول ون ایمرجنسی ریسپانس اور لیول ون امدادی ریسپانس کا آغاز کیا ، اور ہنگامی امدادی کمانڈ اور فرنٹ لائن کمانڈ قائم کی۔ وزارت خزانہ اور وزارت ایمرجنسی منیجمنٹ نے فوری طور پر 12 کروڑ یوآن اورقومی ترقی و اصلاحاتی کمیشن نے 10کروڑ یوآن مختص کیے تاکہ امدادی کاموں اور آفت کے بعد کی ہنگامی بحالی کے امور میں مدد کی جا سکے ۔ فی الوقت پیپلز لبریشن آرمی، مسلح پولیس، چائنا فائر اینڈ ریسکیو ٹیم، سرحدی محافظ، پبلک سیکیورٹی اور چائنا آن ننگ گروپ سمیت مختلف امدادی قوتوں کے 2141 اہلکار امدادی کاموں میں مصروف ہیں ، 269 امدادی گاڑیاں اور 3922 امدادی آلات کے سیٹس فرنٹ لائن میں سرچ اینڈ ریسکیو میں استعمال ہو رہے ہیں ۔ اب زمینی ، آبی اور فضائی ، تینوں راستوں سے پیش قدمی کرتے ہوئے متاثرہ مرکزی علاقے تک پہنچا جا رہا ہے۔