
مقامی وقت کے مطابق 30 اگست کی سہ پہر چین کے صدر شی جن پھنگ کرغزستان کے صدر ،صادیر جاپاروف کی دعوت پر شنگھائی تعاون تنظیم 2026 کے سربراہی اجلاس میں شرکت اور کرغزستان کے سرکاری دورے کے لیے خصوصی طیارے کے ذریعے بشکیک پہنچے۔
بشکیک کےماناس انٹرنیشنل ائرپورٹ پر کرغزستان کے صدر ،صدیر جاپاروف اور ان کی اہلیہ نے ، صدر شی جن پھنگ اور ان کی اہلیہ پھنگ لی یوان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔
اس موقع پر صدر شی جن پھنگ نے اپنے تحریری پیغام میں چینی حکومت اور عوام کی جانب سے صدر جاپاروف اور کرغزستان کے عوام کے لیے خلوص بھرا سلام اور نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور کرغزستان کی روایتی دوستی کا رشتہ بہت پرانا ہے، بلند و بالا تھیان شان پہاڑ دونوں ممالک کے عوام کی ہزار سالہ دوستی کی تاریخ کے گواہ ہیں ۔ سفارتی تعلقات کے قیام کے 34 برسوں میں، چین-کرغزستان تعلقات نے بین الاقوامی اتار چڑھاؤ کے امتحانات کا سامنا کیا۔یہ تعلقات ہمیشہ مثبت اور مستحکم انداز میں آگے بڑھےاور نئے دور کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے بلند معیار تک پہنچے ۔ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعاون نے تیز رفتار ترقی کا "سنہرا دور" دیکھا ہے، دوطرفہ تجارتی حجم اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی تبادلے نئی بلندیوں تک پہنچے ہیں، چین-کرغزستان-ازبکستان ریلوے جیسے بڑے منصوبے کامیابی سے جاری ہیں اور حقیقت پسندانہ ،باہمی فائدے پر مبنی تعاون کے نتائج دونوں ممالک کے عوام کوپہنچ رہے ہیں۔
صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران وہ صدر جاپاروف کے ساتھ چین-کرغزستان تعلقات، مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے بین الاقوامی و علاقائی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے ، تاکہ چین-کرغزستان مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل کے لیے ایک نیا نقشہ تیار کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک سربراہی اجلاس میں شرکت کے منتظر ہیں اور تمام فریقوں کے ساتھ مل کر شنگھائی تعاون تنظیم کو مسلسل نئی ترقی کی طرف لے جانے کے لیے کام کریں گے ۔