• صفحہ اول>>سیاست

    چینی صدر شی جن پھنگ اور ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی ملاقات

    (CRI)2026-09-01

    31 اگست کو بشکیک میں ،شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر چین کے صدر شی جن پھنگ نے ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف سے ملاقات کی۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ رواں سال چین اور ازبکستان کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے قیام کی دسویں سالگرہ ہے۔ چین ،ازبکستان کے ساتھ مل کر باہمی اسٹریٹجک اعتماد کو مزید مضبوط بنانے، باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو گہرا کرنے اور چین۔ازبکستان تعلقات کے ایک نئے "سنہری عشرے" کی بنیاد رکھنے کا خواہاں ہے۔

    شی جن پھنگ نے کہا کہ چین، چین۔ازبکستان دوستی کو مزید فروغ دینے کے اپنے عزم پر قائم رہے گا اور ہمیشہ کی طرح ازبکستان کے قومی حالات کے مطابق اس کی ترقیاتی راہ کے انتخاب کی حمایت کرتا رہے گا ۔ دونوں ممالک کو قانون نافذ کرنے اور سلامتی کے شعبے میں موجود تعاون کے طریقۂ کار سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی "تین منفی قوتوں" کے خلاف مشترکہ طور پر کارروائی کرنی چاہیے۔ صدر شی نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بانی رکن ممالک کی حیثیت سے چین اور ازبکستان کو تھیان جن سربراہی اجلاس کے نتائج پر مؤثر عمل درآمد کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانا چاہیے اور خطے کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینا چاہیے۔

    ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف نے کہا کہ ازبکستان، ایک چین کے اصول پر ثابت قدمی سے قائم ہے اور صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کیے گئے چار عالمی انیشی ایٹوز کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان چین کے ساتھ مل کر شنگھائی تعاون تنظیم کی ترقی کو فروغ دینے اور بین الاقوامی انصاف و مساوات کے مشترکہ تحفظ کے لیے تیار ہے۔

    زبان