• صفحہ اول>>سیاست

    صدر شی جن پھنگ کا شنگھائی تعاون تنظیم کے چھبیسویں سربراہی اجلاس سے اہم خطاب

    (CRI)2026-09-02

    یکم ستمبر کو چینی صدر شی جن پھنگ نے بشکیک میں منعقدہ، شنگھائی تعاون تنظیم کے چھبیسویں سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔

    کرغزستان کے صدر صادیر جاپاروف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے روٹیٹنگ چیرمین ملک کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی جن میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشنکو، بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل نورلان یر میک بائیف نے شرکت کی۔

    شی جن پھنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ گروپ فوٹو بنوایا، سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور"شنگھائی تعاون تنظیم کو مزید اعلیٰ معیار کی ترقی کی راہ پر گامزن کریں" کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔

    شی جن پھنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 25 سال میں شنگھائی تعاون تنظیم نے ایک غیرمعمولی سفر طے کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی کامیابی اس کا بتدریج، علاقائی تعاون کی نئی نوعیت کی ایک ایسی تنظیم میں تبدیلی ہے جو سب سے بڑے جغرافیائی علاقے کا احاطہ کرتی ہے، سب سے بڑی آبادی کی نمائندگی کرتی ہے اور بے پناہ ترقی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس تنظیم کا سب سے قیمتی روحانی اثاثہ "شنگھائی روح" کو متعارف کروانا اور اس پر مستقل عملدرآمد ہے، جو باہمی اعتماد، باہمی فائدے، مساوات، مشاورت، تہذیبی تنوع کے احترام اور مشترکہ ترقی کی تلاش پر مبنی ہے۔ تعاون کا سب سے اہم تجربہ یہ ہے کہ اس نے بقائے باہمی کے لیے غیر وابستگی، عدم محاذ آرائی اور تیسرے فریق کو نشانہ نہ بنانے والا ایک موثر راستہ تلاش کیا اور خطے کے ممالک کو مل کر مشترکہ گھر بنانے کے لیے یکجا کیا ہے۔

    صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ ایس سی او کو اپنی تاریخی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے تاریخ کا راستہ متعین کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ اس موقع پر انہوں نے 4 نکات پیش کیے:

    پہلا، ترقی کو ترجیح دی جائے اور مشترکہ خوشحالی کے لیے کوشش کی جائے۔ چین شنگھائی تعاون تنظیم کو بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ ترقی اور گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو پر عمل درآمدکی ترجیحی تنظیم سمجھتا ہے۔ چین اس تنظیم کے تحت ڈیجیٹل اقتصادی فورم، زرعی نمائشوں اور دیگر سرگرمیوں کا انعقاد کرتا رہے گا، رکن ممالک کے لیے اے آئی ایپلیکیشنز کا بین الاقوامی تعاون مرکز قائم کرے گا، تھیان جن میں پورٹ اکانومی میں تعاون کے لیے چائنا- ایس سی او کا بندرگاہی اقتصادی تعاون مرکز قائم کرے گا اور آئندہ 3 سالوں میں رکن ممالک کے ساتھ مل کر سائنس و ٹیکنالوجی تعاون کے 100 منصوبوں کا نفاذ کرے گا۔

    دوسرا، سکیورٹی کو کلیدی اہمیت دی جائے اور امن و استحکام کا ماحول تشکیل دیا جائے۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو کے نفاذ کے لیے، ایس سی او کو ایک اہم پلیٹ فارم بنانے کے لیے تیار ہے۔ چین، ایس سی او کے "چار سکیورٹی سینٹرز" کے جلد آغاز کی حمایت کرتا ہے تاکہ سکیورٹی خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے رکن ممالک کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔

    تیسرا، عوام پر مبنی نقطہ نظر پر عمل کیا جائے اور نسل در نسل دوستی کی بنیاد کو گہرائی سے پروان چڑھائیں۔ چین تمام فریقوں کے ساتھ مل کر گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کو نافذ کرنے اور ایس سی او کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی و تعاون کی کمیٹی سمیت عوامی سطح پر دوستی کو فروغ دینے والے اداروں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔ چین، چین-ایس سی او بنیادی تعلیمی تعاون مرکز قائم کرے گا اور کنفیوشس انسٹی ٹیوٹس اور لوبان ورکشاپس جیسے منصوبوں کے ذریعے تبادلے، باہمی سیکھ اور عوامی رابطے کے پل بنانے کے لیے تیار ہے۔

    چوتھا، منصفانہ اور منظم حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے مکالمے اور مشاورت پر عمل کیا جائے۔ چین، گلوبل گورننس انیشی ایٹو کے نفاذ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے مثالی تعاون کی حمایت کرتا ہے۔

    اجلاس میں "شنگھائی تعاون تنظیم کے بشکیک سربراہی اجلاس کے اعلامیے"سمیت 28 دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

    اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاکستان 27-2026 کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کا "روٹیٹنگ چیرمین " ملک ہوگا۔

    زبان