چین کی پندرہویں قومی دانشورانہ املاک کی کانگریس 8 سے 9 ستمبر تک بیجنگ میں منعقد ہو رہی ہے۔ کانگریس کا موضوع ہے: "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران دانشورانہ ملکیت کے شعبے کی اعلیٰ معیار کی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں"۔
چین کے قومی ادارے برائے دانشورانہ املاک کے مطابق، چودہویں پانچ سالہ منصوبے کے عرصے میں ملک میں دانشورانہ املاک کے شعبے نے نئی ترقی، نئی پیش رفت اور نئی بلندیوں کا سفر طے کیا۔
چین میں مؤثر ملکی پیٹنٹس کی تعداد 53 لاکھ 94 ہزار تک پہنچی ، جب کہ مؤثر ملکی ٹریڈ مارک رجسٹریشنز کی تعداد 5 کروڑ 8 لاکھ16ہزار ہو گئی۔ پی سی ٹی بین الاقوامی پیٹنٹ درخواستوں کی تعداد مسلسل سات برس سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جبکہ ہیگ سسٹم کے تحت صنعتی ڈیزائن کی درخواستوں اور میڈرڈ بین الاقوامی ٹریڈ مارک درخواستوں کی تعداد بھی دنیا میں سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔پیٹنٹ پر مبنی صنعتوں کی مجموعی اضافی قدر 18 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر چکی ہے جو چین کی مجموعی ملکی پیداوار کا 13.38 فیصد بنتی ہے۔ دانشورانہ ملکیت کے استعمال سے متعلق حقوق کی سالانہ درآمدات و برآمدات کا مجموعی حجم بھی 4 کھرب یوآن سے تجاوز کر چکا ہے ۔
ورلڈ انٹیلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ "گلوبل انوویشن انڈیکس 2025" کے مطابق چین کی درجہ بندی بہتر ہو کر دسویں نمبر پر پہنچ گئی ہے اور چین پہلی مرتبہ دنیا کے 10 سب سے زیادہ اختراعی ممالک میں شامل ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے 100 سرفہرست اختراعی کلسٹرز میں شامل چینی کلسٹرز کی تعداد مسلسل تین برس سے تمام ممالک میں پہلے نمبر پر ہے۔