12 سے 13 ستمبر چینی صدر شی جن پھنگ نے تک بھارتی حکومت کی دعوت پر دہلی میں منعقدہ برکس ممالک کے 18ویں سربراہ اجلاس میں شرکت کی۔ دورے کے اختتام پر سی پی سی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے صحافیوں کو دورے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے حالیہ دنوں وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد جنوبی ایشیا کا دورہ کیا۔ یہ "پندرہویں پانچ سالہ منصوبے" کے آغاز کے سال میں گلوبل ساؤتھ ممالک کے حوالے سے چین کی ایک اہم سفارتی سرگرمی ہے، جو "گریٹر برکس تعاون"اعلی ترقیاتی معیار کی رہنمائی اور گلوبل ساؤتھ کے اتحاد و خود انحصاری کو مضبوط بنانے کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں 24 گھنٹے سے بھی کم قیام کے دوران صدر شی جن پھنگ نے تقریباً 10 سرگرمیوں میں شرکت کی، برکس ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں اور تعاون کے نئے امکانات پر تبادلہ خیال کیا، جب کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرتے ہوئے چین۔بھارت تعلقات کی سمت متعین کی۔
وانگ ای کا کہنا تھا کہ یہ دورہ عملی، مؤثر، واضح اہداف اور بھرپور نتائج کا حامل رہا اور مکمل کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس دوران تین تزویراتی اہداف حاصل کیے گئے: اول، برکس تعاون کی کارکردگی اور اثر پذیری میں اضافہ۔ دوم، گلوبل ساؤتھ کو مزید مضبوط بنانا اور سوم، چین۔بھارت تعلقات کے لیے سمت متعین کرنا۔
وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ اور وزیراعظم مودی نے چین اور بھارت سے متعلق تزویراتی، طویل مدتی اور سمت متعین کرنے والے امور پر خوشگوار ماحول میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان حاصل ہونے والے سب سے اہم اتفاقِ رائے میں یہ بات شامل ہے کہ چین اور بھارت کو شراکت دار بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ بھارت، چین کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر مؤثر عمل درآمد کرے گا، سرحدی مسئلے کو دوطرفہ تعلقات میں مناسب جگہ پر رکھے گا اور خطے بلکہ پوری دنیا کے امن و خوشحالی کے لیے اپنا متوازن کردار ادا کرے گا۔