15 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 14 ستمبر کو منعقدہ پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیا کھون نے چینی اور بھارتی رہنماؤں کی نئی دہلی میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ، چینی صدر شی جن پھنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان تین سالوں میں ہونے والی تیسری ملاقات تھی۔ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کی جانب سے چین-بھارت تعلقات کی ترقی کی "مزید توثیق" کرتی ہے اور سب سے اہم اتفاق رائے یہ ہے کہ چین اور بھارت کو شراکت دار ہونا چاہیے۔ صدر شی جن پھنگ نے نشاندہی کی ہے کہ چین اور بھارت کے قومی حالات مختلف ہیں لیکن فریقین کو ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہیے نیز باہمی معاونت اور مشترکہ ترقی کرتے ہوئے کامیابیوں کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔ فریقین کو معروضی اور منطقی تزویراتی نقطہ نظر کے ساتھ ترقیاتی سمت کو درست کرنا ہوگا، تعاون اور سب کی جیت کے تصور سے باہمی کامیابی حاصل کرنی ہوگی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر مبنی سیاسی حکمتِ عملی کے ذریعے رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اور کھلےپن اور جامعیت پر مبنی کثیرجہتی تعاون کے ذریعے، انسانیت کے فائدے کے لیے کوشش کرنی ہو گی تاکہ چین-بھارت تعلقات کی طویل مدتی اور مستحکم ترقی کو مشترکہ طور پر آگے بڑھایا جا سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بھارت کے چین کے ساتھ تعلقات کسی تیسرے فریق سے متاثر نہیں ہوتے نیز بھارت، کسی بھی قوت کو اپنی سرزمین پر چین مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گا۔ چین، وزیر اعظم مودی کے اس اہم بیان کو اہمیت دیتا ہے۔