
آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے 14 تاریخ کو باکو میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کی۔
صدر الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطح کا سیاسی اعتماد اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی تعاون موجود ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری بھی تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ان کے دورۂ چین کے دوران، صدر شی جن پھنگ کے ساتھ طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا ہے، جس سے دوطرفہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے آذربائیجان کی اقتصادی و سماجی ترقی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے چین کی طویل مدتی اور مضبوط حمایت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آذربائیجان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی حمایت اور اس میں شرکت کرنے والے اولین ممالک میں شامل ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے متعدد منصوبوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ آذربائیجان ایک چین کے اصول پر مضبوطی سے عمل پیرا ہے اور صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ گلوبل انیشی ایٹوز کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ آذربائیجان بین الاقوامی اور علاقائی امور میں چین کے ساتھ ہم آہنگی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بھی تیار ہے۔
وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی اسٹریٹجک رہنمائی میں چین اور آذربائیجان نے باہمی افہام و تفہیم، اعتماد اور تعاون کو فروغ دیا ہے جبکہ دوطرفہ تعلقات نے ترقی کی مضبوط رفتار برقرار رکھی ہے اور مستقبل میں بھی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین آذربائیجان کی جانب سے اپنے قومی حالات کے مطابق ترقی کی راہ اختیار کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ چین، آذربائیجان اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر انٹرمیڈیٹ ٹرانسپورٹ کوریڈور کے تحت تعاون کو مزید وسعت دینے اور آذربائیجان کی ترقی کے سفر میں ایک قابلِ اعتماد اور دیرینہ اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
اپنے دورے کے دوران وانگ ای نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف سے بھی ملاقات کی۔