پانچ تاریخ کو "چین میں انٹرنیٹ ترقی کی صورتحال" کی57ویں شماریاتی رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2025 تک ملک میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 1 ارب 12 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی، جبکہ انٹرنیٹ کی مجموعی رسائی کی شرح 80 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین کی ڈیجیٹل معیشت کا حجم مسلسل مستحکم انداز میں بڑھ رہا ہے، اور اس کے بنیادی صنعتی شعبوں کی ویلیو ایڈڈ پیداوار کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں تناسب 10.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتوں کی ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرنے والوں کی تعداد 60 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اس کی اطلاقی صورتیں روزمرہ زندگی اور پیداواری شعبوں میں گہرائی کے ساتھ شامل ہو رہی ہیں۔
موبائل نیٹ ورک کے شعبے میں، ملک بھر میں 48 لاکھ 38 ہزار فائیو جی بیس اسٹیشن تعمیر کیے جا چکے ہیں، اور تمام قصبوں کے ساتھ ساتھ 95 فیصد دیہی علاقوں میں فائیو جی نیٹ ورک کی سہولت دستیاب ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ، فائیو جی ارتقائی نیٹ ورک ملک کے 330 سے زائد شہروں کا احاطہ کر چکا ہے۔فکسڈ نیٹ ورک کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے دو تہائی شہروں نے گیگا بٹ سٹی کے معیار کو حاصل کر لیا ہے۔
کمپیوٹنگ صلاحیت کے شعبے میں، ملک بھر میں 42 انتہائی وسیع ذہین کمپیوٹنگ کلسٹرز قائم کیے جا چکے ہیں، جو عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کی تیز رفتار ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر رہے ہیں۔



