• صفحہ اول>>تبصرہ

    عالمی سٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنے میں چین کا اہم کردار: گلوبل ٹائمز ایڈیٹوریل

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-05

    4 جنوری کو چینی صدر شی جن پھنگ نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے ساتھ ورچوئل ملاقات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کی۔ چین، روس اور امریکا تینوں ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور عالمی اثر و رسوخ رکھنے والی بڑی طاقتیں ہیں۔ بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ صدر شی جن پھنگ کا روس اور امریکا کے سربراہان مملکت کے ساتھ ایک ہی دن رابطہ، عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے اور عالمی سٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھنے میں چین کے عزم اور عمل کو اجاگر کرتا ہے۔

    روسی صدر سے کی جانے والی ورچوئل ملاقات میں شی جن پھنگ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی دو ملاقاتوں کی رہنمائی میں چین اور روس کے تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اور روس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عالمی برادری کو انصاف اور مساوات پر قائم رہنے کے لیے قائل کریں ، دوسری عالمی جنگ میں حاصل ہونے والی فتح کے نتائج کا بھرپور دفاع کریں، اقوام متحدہ کی مرکزیت پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کا مضبوطی سے تحفظ کریں اور مشترکہ طور پر عالمی سٹریٹجک استحکام کو برقرار رکھیں۔ ولادیمیر پوتن نے روس اور چین کے تعلقات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ماحول کی پیچیدگی اور غیر یقینی صورتِ حال کے پیش نظرروس، چین کے ساتھ سٹریٹجک ہم آہنگی کو مضبوط کرنے اور بین الاقوامی امور میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک زیادہ غیر مستحکم بین الاقوامی ماحول میں، چین اور روس اہم مسائل پر اپنے اقدامات میں ہم آہنگی کو بڑھا رہے ہیں، جس سے بڑے ذمہ دارانہ ممالک کے زیادہ فعال اور مؤثر رویے کی نمائندگی ہوتی ہے۔

    صدر ٹرمپ کے ساتھ اپنی ٹیلی فونک بات چیت میں صدر شی جن پھنگ نے کہا کہ وہ نئے سال میں صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ چین-امریکا تعلقات میں درپیش چیلنجز پر قابو پایا جا سکے اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں۔انہوں نے اہم مسائل کی نشاندہی کی اور بہتر بات چیت، اختلافات کو حل کرنے اور تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چھوٹے چھوٹے مثبت اقدامات بھی بے حد بیش قدر ہیں، جبکہ منفی اقدامات ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔ شی جن پھنگ نے اعتماد قائم کرنے اور ہم آہنگی کے طریقے تلاش کرنے کے لیے بتدریج آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور 2026 کو باہمی احترام اور تعاون کا سال بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی مثبت خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چین کے ساتھ تعاون کی امریکی خواہش کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تائیوان پر چین کے نقطہ نظر کو سمجھتے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا اس کال کو چین-امریکا تعلقات میں "استحکام کے آثار" کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ چین اور امریکا کے رہنما دو طرفہ تعلقات کے لیے راستہ متعین کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے فائدہ مند ہے اور عالمی توقعات پر پورا اترتا ہے۔ ریاست کے سربراہ کی چینی خصوصیات کی حامل سفارت کاری ،بڑی طاقتوں کی سفارت کاری میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے ۔ ایک پیچیدہ اور ترقی پذیر بین الاقوامی منظر نامے میں، صدر شی جن پھنگ ذاتی طور پر بڑے سفارتی اقدامات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد میں شامل ہوئے ، جس نے چین کے عالمی تعلقات میں مثبت اور دور رس تبدیلیوں کو فروغ دیا ہے۔

    حال ہی میں، کئی ممالک کے رہنماوں نے یکے بعد دیگرے چین کا دورہ کیا ہے جن میں مغربی ممالک جیسے آئرلینڈ، کینیڈا، فن لینڈ، اور برطانیہ بھی شامل ہیں ۔ بین الاقوامی میڈیا کی رائے میں ، چین ایک نئے "سفارتی عروج" کا تجربہ کر رہا ہے۔ چین، روس اور امریکا کے رہنماؤں کے مابین تعامل نے اس رفتار کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے، جو چین کی جانب سے، پرامن بقائے باہمی، مجموعی استحکام اور متوازن ترقی کی خصوصیات کے ساتھ بڑی طاقتوں کے مابین ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دینے، تعمیری روابط کو بڑھانےاور بڑے ممالک کے تعلقات کا ایک نمونہ بنانے کے لیے اس کے عزم کا ثبوت ہے۔

    اس وقت، بین الاقوامی منظر نامہ پیچیدہ اور گہری تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔ یکطرفہ پن بمقابلہ کثیرالجہتی، پرامن مکالمہ بمقابلہ تصادم اور تعاون بمقابلہ تنازع جیسے بڑے سوالات کے گرد مختلف خیالات اور قوتیں ٹکرا رہی ہیں اور آپس میں منسلک ہو رہی ہیں۔ ایک صدی میں کبھی بھی رونما نہ ہونے والی تبدیلیوں کے دور میں ، بین الاقوامی نظام کے مستقبل کی سمت اور اس میں تمام ممالک کے کرداروں پر گہرائی سے غور کیا جارہا ہے۔ متعدد ممالک کے رہنماؤں کے چین کے دورے اور چینی صدر کے ساتھ ان کی ویڈیو میٹنگز یا فون کالز، یہ سب زیادہ یقین اور استحکام کی مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتے ہیں۔

    چین-روس کی جامع سٹریٹجک شراکت داری کی ترقی سے لے کر چین-امریکا تعلقات کی مثبت اور مستحکم ترقی کو فروغ دینے تک؛ چین-یورپی یونین تعلقات کی مثبت ترقی کو فروغ دینے سے لے کر گلوبل ساوتھ میں یکجہتی اور تعاون کو مضبوط کرنے تک، چین نے ہمیشہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کے وژن کو برقرار رکھا ہے۔ چین ایک کثیر قطبی دنیا کی وکالت کرتا ہے جو برابری اور نظم و ضبط سے بھرپور ہو نیز جامع اقتصادی عالمگیریت کی حمایت کرتا ہے۔ درحقیقت چین، عالمی اتار چڑھاو کی صورت حال میں مستحکم "اینکر" اور "بیلنس" بن گیا ہے۔

    چین، ایک بڑی طاقت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناطے، ہمیشہ عالمی امن کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہ بڑے ممالک کے نئے طرز کے تعلقات کی تشکیل کو فعال طور پر فروغ دیتا ہے اور علاقائی مسائل کو کم کرنے کے لیے بات چیت اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ یہ ملک جغرافیائی حریفوں سے بالاتر ہ ہوکر ، عالمی یکجہتی کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی امن کو برقرار رکھنے میں ایک بڑی طاقت کی ذمہ داری اور عزم کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس سال چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کا آغاز ہے، جو بنیادوں کو مستحکم کرنے اور جامع کوششوں کو مکمل طور پر متحرک کرنے کا ایک اہم مرحلہ ہے جس میں مکمل طور پر یہ متوقع ہے کہ ایک مسلسل ترقی پذیر چین دنیا کو زیادہ یقین فراہم کرے گا اور انسانی ترقی اور پیش رفت میں نئے اور بڑے تعاون فراہم کرے گا۔

    ویڈیوز

    زبان