• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین کے اے آئی بڑے ماڈلز غیر ملکی صارفین میں مقبول

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-02

    2 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)غیر ملکی صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑے ماڈلز کو کارکردگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ماڈل کے ساتھ ہر تعامل 'ٹوکن' کے نام سے جانے والے ڈیجیٹل وسائل کو استعمال کرتا ہے۔ ٹوکن متن کی سب سے چھوٹی اکائی ہے جس پر جسے پر اے آئی لینگویج ماڈل عمل کرتا ہے۔ یہ ایک مکمل لفظ، کسی لفظ کا حصہ، رموز اوقاف کا نشان، یا محض ایک حرف بھی ہو سکتا ہے۔

    اس سال مارچ میں چین کا اوسط یومیہ ٹوکن استعمال 140 ٹریلین سے تجاوز کر گیا، جو 2024 کے آغاز کے سے 1,000 گنا زیادہ کا اضافہ ہے۔

    اے آئی یونیکارن مینی ماکس (MiniMax) کے نائب صدر یان یی جون نے وضاحت کی کہ صارفین اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ماڈل ذہین، تیز اور واقعی مفید ہے یا نہیں، نیز کہ آیا یہ پیچیدہ مسائل حل کر سکتا ہے اور کیا اسکی قیمت مناسب اور پائیدار ہے۔

    25 مارچ 2026۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جونگ گوان ٹسون نمائش مرکز میں مستقل نمائش کا دورہ کرتی ہوئی ایک خاتون ۔ (شِنہوا/جو ہوان زونگ)

    25 مارچ 2026۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ کے جونگ گوان ٹسون نمائش مرکز میں مستقل نمائش کا دورہ کرتی ہوئی ایک خاتون ۔ (شِنہوا/جو ہوان زونگ)

    یان نے کہا، "چینی اے آئی ماڈلز کو عالمی سطح پر تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ یہ پوری دنیا کے صارفین کی طرف سے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔"

    بڑے ماڈلز کے لیے، زیادہ ذہین کارکردگی اور کم لاگت دونوں کو حاصل کرنا ایک چیلنج ہے۔

    یان نے وضاحت کی کہ 'MiniMax M2.5’ ماڈل کے ساتھ، انہوں نے زیادہ موثر الگورتھم تیار کیے ہیں، جو ماڈل کو کم ٹوکنز کے تعامل سے جوابات دینے کے قابل بناتے ہیں۔ مزید برآں، وہ ہر ٹوکن کی قدر کو زیادہ سے زیادہ کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

    سو ٹوکن فی سیکنڈ کی شاندار پراسیسنگ کی رفتار کے ساتھ، ماڈل کو پورے ایک گھنٹے چلانے پر صرف ایک ڈالر لاگت آتی ہے۔ اندازوں کے مطابق، اسی سطح کی کارکردگی کے لیے، چینی ماڈلز کی لاگت امریکی ماڈلز کے مقابلے میں تقریباً اسکا دسواں حصہ ہے۔

    فودان یونیورسٹی کے اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر لی جی چھنگ نے کہا، "لاگت میں کمی نہ صرف چینی اے آئی کمپنیوں کی تکنیکی ترقی کی وجہ سے ہے، بلکہ یہ بجلی اور سپلائی چینز میں چین کے فوائد کا بھی نتیجہ ہے۔"

    دسمبر 2025 تک، چین میں جنریٹو اے آئی کے صارفین کی تعداد 602 ملین تک پہنچ گئی تھی، جو دسمبر 2024 کے مقابلے میں 141.7 فیصد کا اضافہ ہے۔

    صارفین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ اے آئی کو انٹرنیٹ سے آگے بڑھا کر دفتری تعاون اور صنعتی ڈیزائن جیسے مزید پیچیدہ شعبوں میں لے جا رہا ہے، جس سے اے آئی ایک جدید ٹیکنالوجی سے ایک روزمرہ کا آلہ بنتا جا رہا ہے۔ اے آئی ایپلی کیشنز کا پھیلاؤ مسلسل ڈیٹا فیڈ بیک کی فراہمی سے ماڈلز کو بہتر بناتا ہے اور پیچیدہ کاموں کو حل کرنے کی ان کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، جس سے مستقبل کی ترقی کے لیے جگہ پیدا ہوتی ہے۔

    کمپیوٹنگ پاور صنعت کی عالمی توسیع میں بجلی کے اخراجات نہایت غور طلب ہیں۔

    لی نے مزید کہا، "اس جگہ چین کو ایک الگ فائدہ حاصل ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے بجلی کی فراہمی کے نظام کے ساتھ، انتہائی بلند وولٹیج پاور گرڈز اور سبز بجلی کی کھپت کے ساتھ مل کر، چین کا خود کفیل، قابلِ کنٹرول پاور انفراسٹرکچر مستحکم، لاگت سے مؤثر کمپیوٹنگ پاور کو یقینی بناتا ہے۔"

    لی نے کہا، "اس کے علاوہ، ایک مکمل اے آئی سپلائی چین نے لاگت کو مزید کم کیا ہے۔" انھوں نے نشاندہی کی کہ اے آئی چپس، سرورز، کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، سرحد پار نیٹ ورکس، ایج کمپیوٹنگ، اور بین الاقوامی ادائیگیوں جیسے شعبوں میں مضبوط تعاون نے سپلائی چین میں فوائد پیدا کیے ہیں۔

    لی نے وضاحت کی کہ روایتی مصنوعات کے لیے، ایک کلو واٹ-گھنٹہ بجلی عام طور پر اس کی قیمت سے ایک سے دو گنا زیادہ پیدا کرتی ہے۔ لیکن ٹوکنز کے لیے، اس قدر میں درجنوں، یا یہاں تک کہ سینکڑوں گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔

    لی نے کہا، "آج، ہم نے چین کی توانائی اور مینوفیکچرنگ کی طاقتوں کو ڈیجیٹل قدر میں تبدیل کر دیا ہے جو پوری دنیا تک پہنچتی ہے، لہٰذا جبکہ بجلی چین میں رہتی ہے، لیکن اس کی قدر پہلے سے ہی عالمی سطح پر محسوس کی جا رہی ہے۔"

    ویڈیوز

    زبان