• صفحہ اول>>چین پاکستان

    ڈسٹری بیوٹڈ سولر پینلز: پاکستان کے توانائی بحران کے سامنے ایک مضبوط ڈھال

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-09

    9 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے، اسی لیے یہ آبنائے عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایندھن کی شدید قلت، قیمتوں میں اضافے اور حکومتی بجٹ میں کمی نے کئی ممالک کو سخت اقدامات پر مجبور کر دیا ہے دنیا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے ، پروازوں میں کمی سے لے کر دفتری کام گھر وں سے کرنے تک، 'بقا کی آزمائش' سے گزر رہی ہے۔ایسے میں اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بیرونی ذرائع پر انحصار کرنے والے ،پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ صورتحال مزید سنگین ہے۔

    پاکستان کا 80 فیصد تیل اور زیادہ تر ایل این جی آبنائے ہرمز کے راستے ہی پاکستان آتی ہے۔ اس تناظر میں، حالیہ برسوں کے دوران پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں تیزی سے پھیلنے والے 'ڈسٹری بیوٹڈ سولر پینلز' نے ایک 'بفر' کا کردار ادا کیا ہے، جس سے لاکھوں خاندانوں کو بحران کے دوران بھی بجلی کی بنیادی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔

    ایک وقت میں صوبہ بلوچستان کے دور افتادہ گاؤں دشت کے کسان کریم بخش ،ایندھن کے بحران کی دلدل میں پھنس چکے تھے۔ برسوں سے ان کی کاشت کاری کا انحصار ڈیزل پمپ کے ذریعے نکالے گئے زیرِ زمین پانی پر تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں روس- یوکرین تنازع کے بعد ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے نے ان کے لیے مہنگا ڈیزل خریدنا بھی ناممکن بنا دیا تھا۔ کریم بخش کہتے ہیں کہ پانی کی کمی سے تربوز کے کھیت سوکھنے لگے تھے اور انہیں کاشتکاری کا رقبہ کم کرنا پڑ گیا تھا کیونکہ پانی نہیں تو فصل نہیں، اور فصل نہیں تو آمدن نہیں۔

    2023 میں، انہوں نے ایک بڑا خطرہ مول لیتے ہوئے دوستوں اور رشتہ داروں سے تین لاکھ روپے ادھار لیے اور اپنے کھیت کے پاس سولر پینلز لگوا لیے۔ آج تین سال بعد، ان کا یہ فیصلہ رنگ لا رہا ہے۔ وہ تپتے ہوئے سورج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فخر سے کہتے ہیں کہ اب مجھے ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی فکر نہیں، جب تک سورج ہے، میں تربوز اگاتا رہوں گا۔

    ایسی کہانیاں پاکستان میں اب عام ہو چکی ہیں۔ لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں کا فضائی منظر دیکھیں تو چھوٹی بڑی عمارات کی چھتوں پر سولر پینلز کا ایک جہاں آباد نظر آتا ہے اور دیہاتوں میں بھی یہ پینلز ہر جگہ موجود ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ کہ ان میں سے 95 فیصد چین سے درآمد کیے گئے ہیں۔

    'گلوبل ٹائمز' کے مطابق، 2022 کے بڑے بریک ڈاؤنز کے بعد پاکستانیوں نے شمسی توانائی کو ایک بہترین متبادل کے طور پر اپنایا۔ پینلز کی قیمتوں میں کمی اور حکومتی پالیسیز کی بدولت، ایسے دیہی علاقے جہاں بجلی کی فراہمی غیر مستحکم ہے وہاں سولر پینلز ، اب ایک ضرورت بن چکے ہیں۔ انرجی تھنک ٹینک 'ایمبر' کے مطابق، 2021 سے 2025 کے درمیان پاکستان میں شمسی توانائی کی پیداوار میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ پینلز اب ،مشرق وسطیٰ کے حالات سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے خلاف ایک ڈھال ثابت ہو رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے ایک زمیندار حسن نے بتایا کہ مہنگی بجلی کے باعث سولر پینلز کی قیمت دو سے تین سال میں پوری ہو جاتی ہے۔ انہوں نے ایک اور دلچسپ بات بھی بتائی کہ چینی سولر پینلز اپنی پائیداری اور افادیت کی وجہ سے اب گاؤں میں 'جہیز' کے طور پر بھی دیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ "کارآمد، جدید اور ایک نئی ضرورت" ہے۔

    شمسی توانائی کے وسیع استعمال نے ملک کی توانائی کی قلت کو کم کیا ہے۔ تھنک ٹینک 'رینیو ایبل فرسٹ' (Renewables First) کی پارٹنر نابیہ عمران کا کہنا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات ہوں گے، لیکن تقسیم شدہ شمسی توانائی نے اس بحران کا جھٹکا سہنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ، اگر پاکستان میں سولر پینلز کا یہ پھیلاؤ نہ ہوتا، تو حالات کہیں زیادہ خراب ہوتے۔

    دشت میں، کریم بخش اب اپنی فصل گاڑیوں پر لاد کر منڈی بھیجنے میں مصروف ہے۔ اگرچہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی عالمی منڈی سے جڑے ہیں، لیکن ان کی پیداوار اب عالمی حالات کے رحم و کرم پر نہیں بلکہ ان کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب جو بھی ہو جائے، میرے کھیتوں کو پانی ملتا رہے گا۔

    ویڈیوز

    زبان