20 اپریل 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) انسان نما روبوٹس نے صرف ایک سال میں اپنی ہاف میراتھن کی کارکردگی میں کتنی بہتری کی ہے؟ یہ جاننے کے لیے آئیے ذرا نظر ڈالتے ہیں اتوار کو منعقد ہونے والی بیجنگ ای ٹاؤن ہاف میراتھن پر۔
19 اپریل کو بیجنگ ای ٹاؤن ہاف میراتھن میں، شینزن آنر سمارٹ ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ کمپنی کے ایک انسان نما روبوٹ "فلیش" نے ، دوڑ میں تمام انسانوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے خود مختار نیویگیشن موڈ میں 50 منٹ 26 سیکنڈ میں دوڑ مکمل کی جو کہ میراتھن میں انسانوں کے عالمی ریکارڈ 57:20 سے بہتر کارکردگی ہے۔
پچھلے مہینے پرتگال کے لزبن ہاف میراتھن میں یوگنڈا کے جیکب کپلیمو نے مردوں کے ہاف میراتھن کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھااور ایک ہفتہ پہلے، وانگ وین جئے نے1:01:15 کے ساتھ بیجنگ ہاف میراتھن میں چین کا بہترین ہاف میراتھن ٹائم ریکارڈ کیاتھا۔گزشتہ سال اسی تاریخ کو، انسان نما روبوٹ تھیان گونگ الٹرا نے پہلی ای -ٹاؤن ہاف میراتھن دو گھنٹے، 40 منٹ اور 42 سیکنڈ میں جیت لی تھی۔ اس میراتھن میں شریک 20 ٹیمز میں سے صرف چھ نے 21.0975 کلومیٹر کی دوڑ مکمل کی تھی ۔
ای- ٹاؤن ہاف میراتھن کے دوسرےایڈیشن میں شریک ٹیمز کی تعداد 100 سے زائد رہی۔ یہ میراتھن بڑی حد تک گزشتہ سال کے قواعد کے تحت ہی منعقد کی گئی جس میں روبوٹس اور انسانوں کی دوڑ کا راستہ ایک ہی تھا تاہم ، حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دونوں کی لینز الگ الگ تھیں۔اس سال مقابلے کے ایک نئے فارمیٹ کے باعث شرکت کے دو طریقے متعارف کروائے گئے، ایک ریموٹ کنٹرول اور دوسرا خود مختار نیویگیشن۔ بہتر نتائج کے حصول کے لیے چیمپئن سمیت تقریباً 40 فیصد ٹیمز نے خود مختار نیویگیشن کو اپنایا۔
چائنیز انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرانکس کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل لیانگ لیانگ کا کہنا ہے کہ اس میراتھن میں ٹیکنالوجی کو جانچا جارہا ہے اور اس کامقصد ، خود مختار نیویگیشن میں مستقبل کے انسان نما روبوٹس کی تحقیق کو آگے بڑھانا ہے۔
ان روبوٹس کی کارکردگی نے روبوٹکس صنعت میں چین کی تیز رفتار ترقی اور عالمی رجحان کو اجاگر کیا ہے۔ ہومینائیڈ روبوٹ (شنگھائی) کارپوریشن لمیٹڈ کے سی ٹی او، شنگ بو یانگ نے نشاندہی کی کہ پچھلے سال ہاف میراتھن کے دوران بیٹری کو پانچ سے چھ بار تبدیل کیا گیا تھا اور ہر مرتبہ ، سسٹم کو مکمل طور پر فعال ہونے میں تین سے چار منٹ لگتے تھےلیکن اس سال، بیٹری کی تبدیلی صرف 10 سیکنڈ میں ہو جاتی ہے اور سسٹم ری سٹارٹ بھی نہیں کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ حرارت کے اخراج میں پیشرفت نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے۔ "پچھلے سال، مرکزی جوڑوں کا درجہ حرارت 70 سے 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا، لیکن اب، پانی اور ہوا کی ٹھنڈک کے نئے نظام سے درجہ حرارت تقریباً 60 ڈگری تک برقرار رکھا گیاہے۔
اس سال، ای -ٹاؤن ہاف میراتھن میں جرمنی، فرانس اور برازیل سے بین الاقوامی ٹیمز بھی شامل ہوئیں۔ حیل میری پراجیکٹ کے لیے ٹیکنیکل یونیورسٹی آف میونخ کے اہم حکمت عملی ساز جولیو روگیلیو نے ،انسان نما روبوٹکس میں تیز رفتار ترقی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال سے اس سال تک، چین میں روبوٹ کی ترقی نمایاں بہتری کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اب ہم زیادہ خود مختار اور پانی سے ٹھنڈک پانے والے ماڈلز دیکھ رہے ہیں ، متعدد بار تصادم کے باوجود زیادہ تر روبوٹ فوری طور پر سنبھل کر دوڑ مکمل کرتے ہیں۔
پہلے ایڈیشن ہی سے، منتظمین کا مقصد اس ایونٹ کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنانا ہے جہاں شریک ٹیمز آپس میں بات چیت کر سکیں، ایک دوسرے سے سیکھ سکیں اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے روبوٹکس کی صنعت کی ترقی کو تیز کر سکیں۔ 2026 کی ای- ٹاؤن ہاف میراتھن میں ایک گھنٹہ، 7 منٹ 47 سیکنڈ کے ساتھ ہیومن میراتھن چیمپیئن، جاو حائے جئے کی رائے میں دوڑتے ہوئے انسانوں اور روبوٹس کا تعلق ایک دوسرے کی جگہ لینے والا نہیں ہے، بلکہ باہمی طور پر ایک دوسرے کی ترقی کو فروغ دینے والا ہے۔
ہیومن میراتھن ایونٹس کے لیے منتظمین، عام طور پر راستے کو ہموار اور سادہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کارکردگی میں مدد مل سکے تاہم، روبوٹ کے لیے راستے کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔روبوٹس کی برداشت، استحکام، طاقت کے کنٹرول اور توانائی کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے ان کے راستے میں ڈھلوانوں، موڑ اور تنگ حصوں پر مشتمل 10 سے زائد طرح کی سڑکیں تھیں۔
ای-ٹاؤن نے ہفتے کو روبوٹ کے لیے سپارٹن ریس کی طرز پر ایک روبوٹ واریئر چیلنج کا انعقاد کیا۔ قدرتی آفات کی نقل پر مشتمل تربیتی منظرناموں میں ، روبوٹ کتے چھلانگ لگاتے، ڈھلوانوں پر چڑھتےاور پائپس میں سے گزرتے آگے بڑھے ، جب کہ انسان نما روبوٹ مہارت سے جھولتے ہوئے رکاوٹوں سے بچتے رہے۔
بیجنگ انوویشن سینٹر آف ہیومنائیڈ روبوٹ کے سی ٹی او تھانگ جیان کا کہنا ہے کہ،منفرد جسامت والے پھرتیلے روبوٹ ، بظاہر ناممکن نظر آنے والے کاموں کو سر انجام دینے میں انسانوں کی مدد کر سکتے ہیں۔
مارکیٹس اینڈ مارکیٹس کی رپورٹ کے مطابق، توقع ہے کہ عالمی ہیومینائیڈ روبوٹ مارکیٹ 2030 تک 2025 کے 2.92 بلین ڈالر سے بڑھ کر 15.26 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی، جس کی وجہ ذاتی معاونت ، دیکھ بھال ، مینوفیکچرنگ، ریٹیل اور لاجسٹکس کے شعبوں میں اس کے استعمال میں اضافہ ہے۔
لیانگ نے نشاندہی کی ، ہیومینائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن ٹیکنالوجی کی ترقی کو اجاگر کرتی ہےاور یہ صرف مقابلے کا ایک ایونٹ نہیں ہے۔ ابتدائی طور پر، اس نے کاروباروں، تحقیقاتی تنظیموں اور بین الاقوامی ٹیمز کو اپنی طرف متوجہ کیا، جس کے نتیجے میں جدت کے لیے ایک مسابقتی ڈھانچہ قائم ہوا ہے۔لیانگ کی رائے میں ہیومینائیڈ روبوٹ کی ترقی کو حقیقی زندگی کے فوائد میں تبدیل کرنا بے حد اہم ہے اور اس بات کا دھیان رہنا چاہیے کہ اسے ایک عارضی رجحان کے طور پر نہ لیا جائے۔




