
28 مارچ 2026 ۔مشرقی چین کے صوبے جیانگ شی کے شہر نان چھانگ میں، آرٹ ٹیچر دانگ نے برین-کمپیوٹر انٹرفیس کے ذریعے ایک ایکسوسکلیٹن سے اپنا فیملی پورٹریٹ بنایا۔(شنہوا- جو می)
15 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)نان چھانگ کے ایک ہسپتال میں ، غباروں سے سجے ایک کمرے میں 29 سالہ دانگ, اپنے بستر پر تکیے سے ٹیک لگائے لیٹا ہے ۔برین-کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) ٹیکنالوجی کی مدد سے، دانگ نے ایک ہاتھ کے ایکسوسکیلیٹن کا استعمال کرتے ہوئے قلم کے ذریعے اپنے ایک سالہ بیٹے کے لیے "سالگرہ مبارک" لکھا، گو کہ الفاظ ٹیڑھے میڑھے تھے لیکن جذباتی طور پر بے حد اہم اور روشن تھے۔
دانگ ،فن مصوری کا استاد تھا جو تیراکی کے دوران ایک حادثے میں اپنے ہاتھوں کے استعمال سے مکمل مفلوج ہوگیا ۔وہ نہ تو برش پکڑ سکتا تھا اور نہ ہی اپنے نوزائیدہ بیٹے کو گود میں لے سکتا تھا۔ بی سی آئی ٹیکنالوجی کے بارے میں جاننے کے بعد، دانگ نے اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ یہاں لیٹ کر وہ اپنے خاندان کے لیے ویسے بھی کچھ نہیں کر سکتا لہذا اس ٹیکنالوجی سے وہ خود کو متحرک رکھنے کی کوشش کرے گا۔
دسمبر 2025 میں، نان چھانگ یونیورسٹی کے پہلے الحاق شدہ ہسپتال میں پروفیسر لی مئے حوا کی قیادت میں ایک ٹیم نے فودان یونیورسٹی کے ہواشان ہسپتال سے وابستہ پروفیسر ماؤ یِنگ کی رہنمائی میں ، دانگ کے دماغ میں ایک بی سی آئی ڈیوائس کو کامیابی سے نصب کیا۔
یہ نظام دانگ کی کسی بھی سوچ کے جواب میں صرف 0.05 سیکنڈز کے انتہائی کم وقت میں رد عمل دیتا ہے۔ مکمل طور پرنصب کی گئی اس چِپ کا، بیرونی ڈیوائسز کے ساتھ وائرلیس رابطہ رہتا ہے یعنی مریض کی کھوپڑی سے کوئی تار نہیں نکلتی کہ جو آلات سے منسلک ہو اور حرکت کو محدود کرے ۔ یہ ڈیزائن روزانہ کی سرگرمیوں کو آسان بناتا ہے اور کھانے، ڈرائنگ اور تحریر جیسی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
بی سی آئی نظام NeuroXess Technology(Shanghai) Co نے تیار کیا ہے۔ بانی اور چیف سائنسدان تھاو حو کے مطابق، اس ڈیوائس میں دماغی تہہ کی سطح پر لگائے گئے لچکدار کارٹیکل الیکٹروڈز استعمال ہوتے ہیں۔ یہ حرکت کے ارادوں کو رئیل ٹائم میں ڈی کوڈ کرتا ہے اور متاثرہ ریڑھ کی ہڈی کو بائی پاس کرتے ہوئے ، بیرونی آلات کو درست طریقے سے کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ایک برقی سگنل مریض کے اپنے پٹھوں کے گروپس کو متحرک کرتا ہے، جو قدرتی حرکات جیسے کہ انگلیوں کی جوڑوں پر قابو پاتا ہے۔ وقت کے ساتھ، یہ مریض کے ہاتھوں کو ارادی حرکت کی تربیت دینے میں مدد کرتا ہے۔
نیورو ایکسس کے الگوردھم ڈائریکٹر ،یانگ چھن رونگ نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تربیت کے دوران مریض، سکرین پر دیے گئے احکامات کی پیروی کرتا ہے اور ایکسوسکیلیٹن اس کے ہاتھ کی رہنمائی کرتا ہے۔ تربیت کے بعد، مریض خود سے چیزیں پکڑ سکتا ہے اور بغیر مدد کے کھا پی سکتا ہے۔
سرجری کے صرف ایک ماہ بعد، دانگ خود سے کھانا کھانے ، لکھنے اور ڈرائنگ کرنے لگا۔ اس نے سب سے پہلے اپنی وہ خواہش پوری کی جسے وہ ناممکن سمجھتا تھا یعنی ، دوبارہ سے تصویر کشی کرنا ، اس نے اپنے چھوٹے سے خاندان کی تصویر بنائی ، والد ، والدہ اور ان کے درمیان ایک ننھا بچہ۔دانگ کا کہنا ہے کہ وہ اب زندگی کے بارے میں دوبارہ سے پرامید محسوس ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر رنگوں کے برش اٹھا سکیں گے۔
چین کی اخلاقی اور ادارہ جاتی ترقی میں کی جانے والی ابتدائی کوششوں سے مریضوں کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ فروری 2024 میں، چین نے بی سی آئی تحقیق کے لیے ایک اخلاقی رہنما اصول اپنایا، جس میں واضح کیا گیا کہ بی سی آئی تحقیق کسی نقصان کا سبب نہیں بننی چاہیے اور اس کا بنیادی مقصد حسی-حرکتی افعال میں مدد، ان کی بہتری اور مرمت کرنا یا انسان-کمپیوٹر تعاملات کو بہتر بنانا ہونا چاہیے ۔
اگست 2025 میں، متعدد حکام، بشمول وزارت صنعت و معلوماتی ٹیکنالوجی، نے بی سی آئی جدت کو فروغ دینے کے لیے رہنما اصول جاری کیے، جس کا مقصد 2027 تک اہم تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنا ہے۔
بی سی آئی پہلے ہی سے چین میں زندگیوں کو بہتر بنا رہا ہے۔ بیجنگ، تھیان جن، گوانگ جو ، ووہان اور دیگر شہروں میں طبی اداروں نے بی سی آئی کلینک قائم کیے ہیں۔ بی سی آئی کی مقامی مصنوعات کو بیماریوں کی تشخیص، حرکیات کی بحالی اور نیورموڈیولیشن علاج جیسے کہ پارکنسن کی بیماری اور مرگی جیسے امراض میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہسپتال کے نیوروسرجری شعبے کی سربراہ، پروفیسر لی مئے حواکا کہنا ہے کہ یہ کامیابی ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگنے والے مریضوں کے لیے امید ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس انقلابی ٹیکنالوجی کی کلینیکل ٹرانسلیشن کی ترقی کے لیے معروف بی سی آئی تحقیقی ٹیموں کے ساتھ کام کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔



