• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین میں  ایمباڈیڈ  روبوٹس کے لیے پیشہ ورانہ تربیت کا قومی مرکز

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-19

    19 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)رواں ہفتے ، چین کے صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں ایمباڈیڈ روبوٹس ایپلیکیشنز کے قومی تجرباتی مرکز کا آغاز کیا گیا۔ ہانگ جو یونی ٹری کا شہر ہے اور یہاں روبوٹکس سے متعلقہ سازو سامان بنانے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔

    نیشنل پائلٹ بیس فار ایمباڈیڈ اے آئی ایپلیکیشنز میں 130 سے زیادہ روبوٹ شامل ہیں جو 30 سے زیادہ پیشہ ورانہ منظرناموں میں کام کر رہے ہیں، جن میں کیٹرنگ، بغیر عملے کی ریٹیل اور ایونٹ پرفارمنس کے ساتھ ساتھ بجلی کی ترسیلی لائنز کے معائنے، پھل چننے سمیت زیر زمین آپریشنز شامل ہیں۔

    پائلٹ بیس ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے نائب جنرل منیجر، لی شنگ تھینگ کا کہنا ہے کہ اس تجرباتی مرکز کا مقصد ، ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا ہے جو ملک بھر میں روبوٹکس کمپنیز کے ساتھ گہرے تعاون کو فروغ دے، نیز صنعتی چینز میں اپ سٹریم اور ڈاون سٹریم کاروباروں کے ساتھ مل کر ان کے متعلقہ فوائد کو یکجا قوتوں میں تبدیل کر ے۔لی شنگ کے مطابق ،اس وقت، روبوٹکس ٹیکنالوجی اور صنعتی چینز بڑی حد تک منتشر ہیں، یہاں کچھ کمپنیز مخصوص شعبوں جیسے موشن کنٹرول یا سمارٹ منیپیولیٹر کی تیاری میں مہارت رکھتی ہیں۔یہ تجرباتی مرکز ، تعاون اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے میدان میں ہم آہنگ ترقی کو فروغ دے سکتا ہے۔

    انسانی نما روبوٹ کی ترقی، مصنوعی ذہانت کے ورچوئل دائرے سے حقیقی دنیا کی ایپلیکیشنز کی جانب ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی چین کی لیبارٹریز سے صنعتی مصنوعات کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہے، جسے چین کی 15ویں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) میں مستقبل کی صنعت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کے لیے سٹریٹیجک بصیرت درکار ہے۔صرف ہانگ جو میں ہی ، ہیومنائیڈ روبوٹ کی صنعتی چینز میں 700 سے زائد کمپنیز شامل ہیں اور 2025 میں اس کی آؤٹ پٹ مالیت 106.8 بلین یوان (تقریباً 15.68 بلین امریکی ڈالر)رہی ۔ چین کے چار ٹانگوں پر چلنے والے روبوٹ کی 80 فیصد سے زائد کمپنیز اور انسان نما روبوٹس کی 50 فیصد سے زائد کمپنیز اسی شہر میں ہیں۔

    لی شنگ تھینگ کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی، بنیادی چپس، آپریٹنگ سسٹمز اور ترقیاتی ٹولز سمیت چائنیز روبوٹکس میں کئی سطحوں پر کامیابیاں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ مجسم ذہانت میں ایک ماحولیاتی صلاحیت پیدا کیا جا سکے۔چائنیز اکیڈمی آف انجینئرنگ کے رکن اور قومی مرکز برائے علمی کمیٹی کے رکن وانگ یاو نان کی رائے میں ، مسلسل تکنیکی کامیابیاں اور صنعتی ماحول میں بہتری کا مجموعہ ، مجسم ذہانت اور روبوٹکس میں زیادہ جدت لائےگا۔

    ویڈیوز

    زبان