• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    ٹیکنالوجی ،  چین میں معذور افراد کو بااختیار بنانے میں مددگار

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-20

    14 مئی 2026 ۔ چین کے صوبے شائنشی کے شہر شی آن میں معذور افراد کی معاونت کے مرکز میں جانگ یان یان( دائیں جانب) ڈیٹا تفصیلات تحریر کر رہی ہیں۔ (شنہوا/جو جنگ یی)

    14 مئی 2026 ۔ چین کے صوبے شائنشی کے شہر شی آن میں معذور افراد کی معاونت کے مرکز میں جانگ یان یان( دائیں جانب) ڈیٹا تفصیلات تحریر کر رہی ہیں۔ (شنہوا/جو جنگ یی)

    20 مئی 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے شان دونگ کے شہر چھنگ داو میں ایک بحالی مرکز کے کمرے میں ، 59 سالہ سن رین چھون ،بایئونک ٹانگ کے ساتھ مستحکم انداز میں قدم اٹھاتے ہوئے چل رہے ہیں۔وہ بے حد مسرور تھے کیونکہ یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے پہلے وہ ناممکن سمجھتے تھے۔ یہاں چلنے پھرنے سے معذور کئی دوسرے افراد کے بھی یہی احساسات تھے ۔برین-مشین انٹرفیس کمپنی ،برین کو کی تیار کردہ جدید بائیونک ٹانگیں ، ذہین الگورردھمز پر انحصار کرتی ہیں تاکہ گھٹنے کے جوڑ کو رئیل ٹائم میں ایڈجسٹ کیا جا سکے اور یہ انسانی جسم کے افعال کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر چلنے میں مدد دے۔

    چین میں بصارت سے محروم تقریباً 17 ملین افراد کے لیے روایتی "گائڈ ڈاگ" ایک پر تعیش سہولت کے مترادف ہیں کیونکہ ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور ان کی تربیت میں کئی سال لگتے ہیں ۔ ملک بھر میں رہنمائی فراہم کرنے والے اندازاً صرف 400 خصوصی کتے فعال ہیں تاہم، سمارٹ گائیڈ ڈاگز ، ان افراد کے لیے نئی امید لائے ہیں۔

    چھنگ داو میں سائیفائیٹ انجینئرنگ ٹیکنالوجی گروپ کمپنی کی ٹیسٹ سائٹ پر، پروڈکٹ مینیجر ہان شی من، اپنی آنکھیں بند کر کے ایک سینسر والی چھڑی اور سمارٹ ڈاگ کی مدد سے متوازن انداز میں چلتے ہوئے رکاوٹ کو عبور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنی کے سمارٹ گائیڈ ڈاگز، اندر اور باہر ہر ماحول میں انتہائی درستگی کے ساتھ مقام ، مراحل ، پیدل چلنے والوں اور ٹریفک لائٹس جیسی رکاوٹوں کو سمجھ کر خود بخود راستے ایڈجسٹ کرتے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ یہ کتے مہنگے نہیں ہوں گے اور توقع ہے کہ آگے چل کر صارفین کے ساتھ صوتی احکامات کے ذریعے ربط قائم کریں گے تاکہ اپنے صارف کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ان کاکہنا تھا کہ کمپنی نے داخلی تصدیق مکمل کر لی ہے اور چھنگ داو میں وسیع پیمانے پر فیلڈ ٹیسٹ کی تیاری کر رہی ہے۔

    ٹیکنالوجی، معذور افراد کے لیے ملازمتوں کے نت نئے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے، جن میں "ڈیٹا اینوٹیشن (data annotation)کا نیا پیشہ نمایاں ہے۔

    39 سالہ، جانگ یان یان پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کے عارضے میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے انہیں چلنے میں دشواری ہوتی ہے اور ایک مستقل ملازمت کا حصول انہیں ناممکن نظر آتا تھا ۔ اپنے اس عارضے اور پیشہ ورانہ مہارت میں کمی کی وجہ سے، وہ سڑک پر ایک ٹھیلا لگا کر گزر بسر کرتی تھیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک دن وہ ایک دفتر میں بیٹھ کر جدید اے آئی کی صنعت میں کام کریں گی ۔

    تین سال پہلے، انہوں نے ڈیٹا اینوٹیشن کے لیے بھرتی کی مہم کے بارے میں سنا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اے آئی ہے کیا ، لیکن متعلقہ لوگوں نے انہیں بتایا کہ کمپیوٹر کی بنیادی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ سیکھ سکتا ہے۔ جانگ نے توجہ کے ساتھ دو ہفتوں میں یہ مہارت حاصل کی۔اب وہ علاقائی لہجوں میں آڈیو فائلز کو ٹرانسکرائب کرتی ہیں اور بولنے والوں کے جذبات کو لیبل کرتی ہیں، جس سے AI ماڈلز کو انسانی لب ولہجے کی پیچیدگیوں اور خاصیتوں کو پہچاننے میں مدد ملتی ہے۔

    2020 میں، "ڈیٹا اینوٹیشن" کو چین کی پیشہ ورانہ درجہ بندی کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ یہ جسمانی معذوری والے افراد کے لیے ایک بہترین ملازمت ہے کیونکہ اسے "ریموٹ ورک " کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔

    صوبہ شائنشی کے شہر شی آن میں شان لیانگ شنگ معاونتی مرکز برائے معذور افراد میں جانگ جیسے ، 3,000 سے زائد افراد نے ملازمتیں حاصل کی ہیں۔مرکز کے سربراہ لی یی شوان نے امید ظاہر کی کہ مختلف ہنر اور مہارتوں میں تربیت حاصل کرنے کے بعد ایک دن یہ افراد خود مختار ہوسکیں گے اور پروجیکٹ مینیجرز جیسی زیادہ چیلنجنگ ذمہ داریاں بھی سنبھال سکیں گے۔

    ٹیکنالوجی، نقل و حرکت اور روزگار کے علاوہ عوامی شعبے کی خدمات کو معذور افراد کے لیے بہتر بنانے میں بھی مدد گار ہے۔

    چھنگ داؤ کی میٹرو لائن 6 کے ہینگ یُن شان سٹیشن پر، جیسے ہی ایک وہیل چیئر سوار مسافر پہنچے، عملے کا رکن فوری طور پر مدد کے لیے آگے بڑھا۔اس سروس کو اے آئی پر مبنی ویڈیو تجزیے اور سمارٹ رسپانس سسٹم کی معاونت حاصل ہے۔ چھنگ داؤ میٹرو کے سینئر انجینئر وانگ یی ہوا کے مطابق،یہ نظام وہیل چیئرز اور چھڑیوں جیسے امدادی آلات کو پہچانتا ہے اور خود کار طور پر یہ جانچتا ہے کہ کیا مسافر کو مدد کی ضرورت ہے یا نہیں۔

    سٹیشن کے عملے کے رکن دونگ یان جون بتاتے ہیں کہ پہلے ، ان خدمات کے لیے عملے کا انحصار بصری جانچ اور گشت پر ہوتا تھا۔ اب، سسٹم خودبخود انہیں آگاہ کرتا ہےجس سے ان خصوصی افراد کے لیے فوری اور بروقت خدمات فراہم کرنا ممکن ہوتا ہے۔ان کے مطابق، لائن 6 پر اس نظام کی آزمائش کے بعد سے اس سسٹم نے 10,000 سے زائد مسافروں کو معاونت فراہم کی ہے۔

    آج، چین میں 85 ملین سے زیادہ معذور افراد موجود ہیں۔ جیسے جیسے چین، 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) میں طے کردہ اہداف کا نفاذ کر رہا ہےویسے ویسے، معذور افراد کی مدد اور انہیں بااختیار بنانے کی کوششیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

    14 مئی 2026۔ چھنگ داو میں سائیفائیٹ انجینئرنگ ٹیکنالوجی گروپ کمپنی کی ٹیسٹ سائٹ پر ہان شی من، اپنی آنکھیں بند کر کے ایک سینسر والی چھڑی اور سمارٹ ڈاگ کی مدد سے رکاوٹ کو عبور کر رہے ہیں۔ (شنہوا۔ لی آو چھیو)

    14 مئی 2026۔ چھنگ داو میں سائیفائیٹ انجینئرنگ ٹیکنالوجی گروپ کمپنی کی ٹیسٹ سائٹ پر ہان شی من، اپنی آنکھیں بند کر کے ایک سینسر والی چھڑی اور سمارٹ ڈاگ کی مدد سے رکاوٹ کو عبور کر رہے ہیں۔ (شنہوا۔ لی آو چھیو)

    صوبہ شان دونگ کے شہر ، چھنگ داو کی میٹرو لائن 6 کے ہینگ یُن شان سٹیشن پر، عملے کا ایک رکن وہیل چیئر سوار مسافر کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    صوبہ شان دونگ کے شہر ، چھنگ داو کی میٹرو لائن 6 کے ہینگ یُن شان سٹیشن پر، عملے کا ایک رکن وہیل چیئر سوار مسافر کو مدد فراہم کر رہا ہے۔ (شنہوا)

    ویڈیوز

    زبان