• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاک چین آہنی دوستی کو فروغ دیں اور تعاون کا نیا باب رقم کریں

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-05-21

    تحریر: پاکستان میں چین کے سفیر، جیانگ زائی دونگ

    رواں سال 21 مئی کو چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ ہے۔ 75 سالوں کے سرد و گرم میں ایک ساتھ رہتے ہوئے، پاک چین تعلقات نے بین الاقوامی حالات کی تبدیلیوں کے امتحانات کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے اور ہمیشہ چٹان کی طرح مضبوط اور پہاڑ کی طرح مستحکم رہے ہیں۔دونوں ممالک نے "ہمالہ سے بلند ، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی" آہنی دوستی قائم کرتے ہوئے ریاستی تعلقات کی ایک بہترین مثال رقم کی ہے۔ ایک نئے تاریخی موڑ پر ، دونوں ممالک نئے دور میں مزید قریبی چین - پاک مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کے ہدف کے ساتھ، اپنی سدا بہار سٹریٹیجک شراکت داری کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

    سربراہانِ مملکت کی سفارت کاری کی قیادت میں، عوامی سطح پر دوستی کی بنیادوں کو مضبوط کرنا

    پاک -چین روایتی دوستی کی بنیاد، پرانی نسل کے رہنماؤں نے اپنے ہاتھوں سے رکھی تھی، جو دونوں ممالک اور ان کے عوام کا قیمتی اثاثہ ہے۔ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے، مسلسل دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلے گرمجوشی سے جاری ہیں، باہمی سٹرٹیجک اعتماد ناقابلِ تسخیر ہے اور مفادات کا انضمام مزید گہرا اور ٹھوس ہو رہا ہے۔ 2015 میں صدر شی جن پھنگ کے پاکستان کے تاریخی سرکاری دورے کے بعد سے، چین -پاک ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری نے نمایاں ترقی کی ہے۔ 2025 میں، صدر شی جن پھنگ نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں اور اہم اتفاقِ رائے پر پہنچے۔ دونوں حکومتوں نے نئے دور میں مزید قریبی چین - پاک مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کے حوالے سے ایک ایکشن پلان جاری کیا، جس نے چین- پاک تعلقات کو ایک نئے سفر پر گامزن کیا۔ کچھ عرصہ قبل، پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے چین کے صوبے حونان اور ہائی نان کا دورہ کیا۔ ان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں نے پاک- چین تعلقات کی ترقی کے لیے سیاسی رہنمائی فراہم کی ہے اور ان میں زبردست تحریک پیدا کی ہے۔

    عملی تعاون کے سہارے، عوام کے مفاد میں ایک مثالی نمونہ تشکیل دینا

    "بیلٹ اینڈ روڈ" انیشی ایٹو کے ایک اہم اور اولین پائلٹ منصوبے کے طور پر، چین -پاکستان اقتصادی راہداری نے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں شاندار نتائج حاصل کیے ، 25.9 بلین امریکی ڈالر سے زائد کی براہ راست سرمایہ کاری حاصل کی ، 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے ، پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اہم تعاون فراہم کیا اور اعلیٰ معیار کے "بیلٹ اینڈ روڈ" منصوبے کے لیے ایک مثالی ماڈل تشکیل دیا ہے۔ صدر شی جن پھنگ نے اس بات پر زور دیا کہ راہداری کی منصوبہ بندی اور ترتیب میں پاکستان کے تمام علاقوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاکہ ترقی کے ثمرات سے تمام پاکستانی عوام مستفید ہو سکیں۔ جیسے جیسے راہداری کی تعمیر اپنے "اپ گریڈڈ 2.0 ورژن" میں داخل ہو رہی ہے، دونوں ممالک صنعت، زراعت اور کان کنی کو تین اہم ترجیحات بناتے ہوئے ترقی، روزگار ، جدت و اختراع ، سبز معیشت اور وسیع علاقائی ترقی کی "پانچ بڑی راہداریاں" تعمیر کریں گے تاکہ پاکستان کی ترقی کی صلاحیتوں کو بہتر طور پر اجاگر کیا جا سکے اور چینی طرز کی جدیدیت کے ترقیاتی مواقع کو بہتر انداز میں بانٹا جا سکے۔

    کثیر الجہت تعاون کے ذریعے، گلوبل ساؤتھ کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنا

    ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داروں کے طور پر، چین اور پاکستان نے ہمیشہ اہم اور سلگتے ہوئے مسائل پر قریبی رابطے اور تعاون کو برقرار رکھا ہے۔ امریک- اسرائیل -ایران جنگ کے بعد سے، صدر شی جن پھنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے اور اسے فروغ دینے کے لیے چار نکاتی تجویز پیش کی، جس کا وزیر اعظم شہباز نے مثبت جواب دیا اور اس کی بھرپور تعریف کی۔ چین اور پاکستان نے فعال طور پر امن اور مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی، اور خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی پر مشترکہ طور پر ایک پانچ نکاتی اقدام جاری کیا۔ گلوبل ساؤتھ کے ممالک ہونے کے ناطے، چین اور پاکستان اقوام متحدہ پر مبنی بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی قانون پر مبنی بین الاقوامی ضوابط کا بھرپور دفاع کرتے ہیں۔ پاکستان، صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ چار بڑے عالمی اقدامات پر عمل درآمد کے حوالے سے ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ چین- پاک تعاون کا مثالی اثر دو طرفہ دائرہ کار سے وسیع ہو چکا ہے اور اس نے ہنگامہ خیز اور غیر یقینی بین الاقوامی اور علاقائی صورتحال میں قابل قدر استحکام پیدا کیا ہے۔

    اس وقت، دنیا میں صدی کے دوران کبھی سامنے نہ آنے والی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں۔ چین اپنے "پندرہویں پنج سالہ منصوبے" پر عمل پیرا ہے، جبکہ پاکستان اپنا " اڑان پاکستان " منصوبہ آگے بڑھا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی اپنی اپنی جدیدیت کی تعمیر اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون ایک نئے موڑ اور اہم مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔

    ہم، سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کو ایک موقع کے طور پر لیتے ہوئے، دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے کو خلوصِ نیت سے نافذ کرنے کے لیے پاکستانی فریق کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ ہم اعلیٰ سطحی سیاسی باہمی اعتماد، اعلیٰ سطحی عملی تعاون اور اعلیٰ سطحی بین الاقوامی تعاون کو گہرا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ پاک چین تعلقات کے استحکام سے غیر یقینی بین الاقوامی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے، پڑوسی ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تعمیر کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کی جا سک اور پوری انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حامل معاشرے کی تشکیل میں اپنا اہم کردار ادا کیا جا سکے۔

    ویڈیوز

    زبان