تحریر: چین میں پاکستان کے سفیر ،خلیل ہاشمی
رواں سال پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ ہے۔ گزشتہ 75 برسوں کے دوران، پاک -چین تعلقات نے بین الاقوامی صورتحال کی تبدیلیوں اور امتحانات کا سامنا کیا ہے اور ہمیشہ اپنی بھرپور توانائی برقرار رکھی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے طویل مدتی روابط میں باہمی سٹرٹیجک اعتماد کو مسلسل مضبوط اور گہرا کیا ہے۔ دہائیوں کی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد، پاک چین یہ باہمی اعتماد مزید گہرا ہوا ہے اور ہمہ موسمی سٹریٹجک شراکت داری مسلسل نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، جو ریاستوں کے درمیان طویل مدتی دوستانہ تبادلوں کی ایک روشن مثال بن چکی ہے۔
پاکستان اور چین نے 1951 میں باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس وقت دونوں ممالک جنگ کے بعد تیزی سے بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے میں ترقی کے راستے تلاش کر رہے تھے۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے باہمی احترام، خود مختارانہ برابری اور مخلصانہ اعتماد کی بنیاد پر تعاون کا آغاز کیا، جس نے دوطرفہ تعلقات کی ترقی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ 1960 کی دہائی میں، دونوں ممالک نے مل کر شاہراہ قراقرم کی تعمیر شروع کی، جسے 1978 میں باقاعدہ طور پر ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ شاہراہ پاکستان اور چین کے درمیان واحد زمینی راستہ ہے، جس نے کاشغر سے اسلام آباد تک ٹریفک کی روانی کو ممکن بنایا اور بلند و بالا پہاڑی رکاوٹوں کو تعاون کی راہداری میں بدل دیا۔ اس کے ساتھ ہی، پاکستان نے اقوام متحدہ میں عوامی جمہوریہ چین کی جائز نشست بحال کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا جو خود مختارانہ برابری کو برقرار رکھنے اور ترقی پذیر ممالک کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ موقف کو اجاگر کرتا ہے۔
گہرے باہمی سٹریٹجک اعتماد پر قائم رہتے ہوئے، پاک -چین تعاون میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور تعاون کے شعبوں میں مسلسل وسعت آئی ہے۔ دونوں فریقوں نے بتدریج ایک ادارہ جاتی تعاون کا جامع فریم ورک تشکیل دیا ہے، جو روابط اور سائنسی و تکنیکی جدت طرازی جیسے متعدد اہم شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر تعمیر کی جانے والی پاک- چین اقتصادی راہداری ، بنیادی ڈھانچے، توانائی اور دیگر شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور دونوں ممالک کے گہرے سٹریٹیجک تعاون کا عملی مظہر ہے۔ اس وقت، دونوں ممالک مشترکہ طور پر پاک -چین اقتصادی راہداری کے 'اپ گریڈ شدہ ورژن 2.0' کی تعمیر کو آگے بڑھا رہے ہیں، جس میں صنعت کاری، ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی، زرعی جدت طرازی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے جیسے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس سے تعاون کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی اور دونوں فریقوں کی ترقی کی تحریک اور نمو کی لچک میں اضافہ ہوگا۔
پاک -چین عوامی و ثقافتی تبادلے (People-to-people exchanges) تیزی سے قریبی تبادلوں میں تبدیل ہو رہے ہیں، جو دوطرفہ دوستی کے لیے عوامی حمایت کی مضبوط بنیادیں استوار کر رہے ہیں۔ چین کے مختلف حصوں کے اپنے دوروں کے دوران، میں نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا معائنہ کر کے، پاک -چین مشترکہ تحقیقی ٹیموں سے بات چیت کے ذریعے اور چین میں کاروبار کرنے والے پاکستانی نوجوانوں سے رابطہ کر کے، نئے دور میں پاک -چین تعلقات کی عوامی نوعیت، جدت پر مبنی اور مستقبل پر مرکوز نمایاں خصوصیات کو حقیقی معنوں میں محسوس کیا ہے۔ تعلیمی تعاون دونوں ممالک کے ثقافتی تبادلوں کا ایک بنیادی ستون ہے۔ 1960 کی دہائی میں قائم ہونے والا پاکستان ایمبیسی کالج، پاک -چین دوستی کے لازوال ہونے کا گواہ ہے۔ دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان تعاون اور مشترکہ سائنسی تحقیق مسلسل گہری ہو رہی ہے، جو سائنس و ٹیکنالوجی، طب، ڈیجیٹل جدت، زرعی ٹیکنالوجی اور دیگر کئی شعبوں کا احاطہ کرتی ہےاور مقامی ترقیاتی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ چین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی محققین، انجینئرز، طبی عملہ اور نوجوان کاروباری افراد کی ایک بڑی تعداد، دونوں معاشروں کو جوڑنے اور پاک -چین دوستی کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کے لیے ایک اہم پل بن چکی ہے۔
موجودہ بین الاقوامی صورتحال تبدیلیوں اور ہنگامہ آرائیوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن پاکستان اور چین نے ہمیشہ اپنی سٹریٹیجک استقامت کو برقرار رکھا ہے اور دیرپا عملی تعاون کو گہرا کیا ہے۔ چین کا "تنوع میں ہم آہنگی" کا فلسفہ اچھے ریاستی تعلقات کے بنیادی اصول کی تصدیق کرتا ہے: شراکت داروں کے ساتھ رہنے کا مطلب یکساں ماڈل کی تلاش نہیں ہے، بلکہ باہمی احترام اور مشترکہ اہداف کا حصول ہے۔ پاکستان اور چین کے قومی حالات مختلف ہیں لیکن ان کے فوائد ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور وہ ہمیشہ مشترکہ ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر آگے بڑھے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) جیسے کثیر الجہت میکانزم کے ذریعے ، دونوں فریق قریبی تعاون کر رہے ہیں اور ڈیجیٹل گورننس اور عالمی طرزِ حکمرانی کے نظام کی اصلاحات جیسے شعبوں میں ہم آہنگی کو گہرا کر رہے ہیں، تاکہ ترقیاتی اتفاق رائے اور تعاون کی مشترکہ طاقت کو مجتمع کیا جا سکے۔ پاک- چین تعاون کا تجربہ اس بات کا مکمل ثبوت ہے کہ ساؤتھ-ساؤتھ تعاون کی زندگی اور توانائی ترقی پذیر ممالک کے باہمی احترام اور حمایت ، ممالک کے جدیدیت کی راہ پر ساتھ چلنے، ادارہ جاتی مذاکرات میں اتفاق رائے پیدا کرنے اور ہم آہنگ ترقی میں باہمی مفاد پر مبنی پیش رفت کے حصول سے پیدا ہوتی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے لے کر جدید سائنسی و تکنیکی جدت طرازی کے تعاون تک، پاک -چین تعلقات کے معیار اور سطح میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، جو ہمہ موسمی سٹریٹیجک شراکت داری کے عصری مفہوم کو مسلسل فروغ دے رہی ہے۔ دنیا جتنی زیادہ ہنگامہ خیز اور تغیر پذیر ہوگی، پاک چین باہمی سٹریٹیجک اعتماد کی قدر اتنی ہی زیادہ نمایاں ہوگی اور دوطرفہ تعلقات کی مستحکم طاقت اتنی ہی زیادہ ظاہر ہوگی۔ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے نئے نقطہ آغاز پر ، دونوں ممالک کے عوام یکساں جذبے کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے، تعاون کو مزید گہرا کریں گے، مضبوط باہمی سٹریٹیجک اعتماد کو بنیاد بناتے ہوئے اور مفید باہمی عملی تعاون کو آلے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، مشترکہ طور پر پاک - چین دوستانہ تعاون کا ایک نیا باب رقم کریں گے۔



