تحریر: تھانگ منگ شینگ
پروفیسر، پیکنگ یونیورسٹی، چین
ڈائریکٹر، مرکز برائے مطالعاتِ پاکستان، پیکنگ یونیورسٹی

2 ستمبر 2025 -چینی صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی.(تصویر:شنہوا)
پچھتر برس کی مشترکہ خوشی و غم، پچھتر برس کی فولاد جیسی دوستی۔ 2026ء میں جب چین اور پاکستان اپنے سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ منا رہے ہیں، دونوں ملکوں کے عوام دوستی اور تعاون کی خوشی سے سرشار ہیں۔ 21 مئی 1951ء کو دونوں ملکوں کےدرمیان باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے، ہمالیہ کو عبور کرنے اور بحیرۂ عرب کو پار کرنے والی یہ دوستی بین الاقوامی منظرنامے میں تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ مضبوط اور نئی رہی ہے۔ ہم نے مل کر تین چوتھائی صدی کا غیر معمولی سفر طے کیا ہے — شاہراہِ قراقرم کی تعمیر دیکھی، چین-پاکستان اقتصادی راہداری کو خواب سے حقیقت بنتے دیکھا؛ بار بار آفات میں فوری امداد دیکھی اور بین الاقوامی امور میں ایک دوسرے کی مضبوط حمایت دیکھی۔ "پہاڑوں سے اونچی، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے مضبوط" یہ دوطرفہ دوستی عام ریاستی تعلقات سے بہت آگے نکل چکی ہے اور مختلف تہذیبوں اور سماجی نظاموں کے حامل ممالک کے درمیان پائیدار دوستی، مستحکم تعاون اور باہمی فائدے کا نمونہ بن گئی ہے۔
پچھتر برس کا مشترکہ سفرِ آزمائش: ہر موسم کے اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کا قیام
چین-پاکستان سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ بلاشبہ دوطرفہ تعلقات کی تاریخ میں یادگار سنگِ میل ہے۔ 21 مئی 1951ء کی طرف نظر ڈالیں تو اس وقت کے بین الاقوامی ماحول میں پاکستان نے عزم کے ساتھ عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک بننے کا فیصلہ کیا،اور چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا اسلامی ملک بنا۔ یہ فیصلہ سٹریٹجک بصیرت کا مظہر تھا اور اس نے بین الاقوامی انصاف کے ساتھ پاکستان کے پختہ عزم کو ظاہر کیا۔ گزشتہ پچھتر برسوں میں بین الاقوامی ڈھانچے میں گہری تبدیلیوں کے باوجود، دونوں ممالک نے ہمیشہ باہمی احترام اور اعتماد کے بنیادی اصولوں پر قائم رہتے ہوئے مختلف خطرات اور چیلنجوں کا مل کر سامنا کیا ہے۔ اگرچہ یہ سفر ہمیشہ ہموار نہیں رہا، لیکن اس نے دونوں ممالک کے درمیان رشتے کو اور مضبوط کیا ہے۔
1960کی دہائی کے اوائل میں، دوستانہ اور عملی مذاکرات کے ذریعے چین اور پاکستان نے تاریخی سرحدی مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کر لیا۔ اس کامیابی نے دوطرفہ تعلقات کی طویل مدتی ترقی کے لیے انتہائی مضبوط سیاسی بنیاد فراہم کی۔ اس نے نہ صرف دونوں ممالک کے رہنماؤں کی دور اندیشی کو ظاہر کیا بلکہ بین الاقوامی برادری کو مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے علاقائی تنازعات کے پُرامن حل کی قیمتی مثال بھی فراہم کی۔
جنوری 1963ء میں دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کو اولین ترجیحی ملک کا درجہ دینے والے تجارتی معاہدے پردستخط کیے؛ اسی سال اگست میں فضائی نقل و حمل کا معاہدہ طے ہوا جس کی بدولت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اپریل 1964ء میں بیجنگ کے لیے باقاعدہ مسافر بردار پروازیں شروع کیں؛ ستمبر 1963 میں باہمی تبادلے کا معاہدہ، مارچ 1965ء میں ثقافتی معاہدہ، اکتوبر 1966ء میں بحری نقل و حمل کا معاہدہ اور اس طرح کے مزید معاہدات پر دستخط کیے گئے۔ ان معاہدوں نے ، مشترکہ امنگوں باہمی سیاسی اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مضبوطی سے قائم دوطرفہ تعلقات کی تیز رفتار ترقی کو ظاہر کیا۔
1970 کی دہائی میں، بین الاقوامی اور علاقائی منظرنامے میں گہری تبدیلیوں کے دوران، چین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات پائیدار اور مستحکم رہے۔ 1971ء میں اقوامِ متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کے اہم موقع پر پاکستان نے واضح موقف اور پختہ حمایت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلے مزید قریبی ہو گئے اور اسٹریٹجک مکالمہ مسلسل گہرا ہوتا رہا۔ پیچیدہ اور بدلتے بین الاقوامی ماحول میں بھی دونوں فریق ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور تشویش کے حامل اہم مسائل پر اعلیٰ درجے کی باہمی سمجھ بوجھ اور پختہ حمایت برقرار رکھتے ہیں۔ نازک لمحات میں اس طرح کی باہمی حمایت ،چین-پاکستان تعلقات کی سب سے نمایاں خصوصیت ہے۔
1990 کی دہائی کے بعد سے، عالمی کثیرقطبیت کی گہرائی کے ساتھ، چین اور پاکستان کے درمیان جامع شراکت داری کا عملی مواد مسلسل وسیع ہوتا رہا ہے۔ دونوں فریقوں نے باقاعدہ سفارتی مشاورت اور اسٹریٹجک مکالمے سمیت کثیر سطحی، وسیع النطاق مکالمے اور تعاون کا ڈھانچہ قائم کیا ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ اور علاقائی استحکام جیسے اہم مسائل پر مواصلت اور ہم آہنگی مسلسل اور گہری رہی ہے۔ بنیادی طور پر، یہ رشتہ وقتی تبادلوں پر نہیں بلکہ امن، ترقی، انصاف اور عدل کے مشترکہ عزم پر استوار ہے — وقت اور آزمائشوں سے نکھری ہوئی ایک مخلصانہ اور قیمتی شراکت داری۔

20 اپریل کو، اسلام آباد میں چینی صدر شی جن پھنگ نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مذاکرات کے بعد، ان کے ہمراہ مشترکہ طور پر افتتاحی کرہ (اسٹارٹ بال) کو چھو کر چین پاکستان تعاون کے منصوبوں پر کام شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ (لان ہونگ گوانگ/شنہوا)
20 اپریل 2015 کو صدر شی جن پھنگ نے پاکستانی فریق کی دعوت پر پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ دونوں ممالک نے ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کے قیام سے متعلق مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور اس رشتے کو ایک نئی سطح پر لے جانے پر اتفاق کیا۔ "ہر موسم" کا مطلب تمام حالات میں غیر متزلزل اور مستقل رہنا ہے؛ "اسٹریٹجک تعاون" کا مطلب یہ ہے کہ باہمی اعتماد اور تعاون قومی ترقی کی طویل مدتی منصوبہ بندی اور بنیادی مفادات میں سرایت کر چکا ہے۔ 2 ستمبر 2025ء کو جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین آئے تو صدر شی جن پھنگ نے ان سے ملتے ہوئے کہا: "چین اور پاکستان مصیبت میں دوست، خون کے رشتے کے بھائی،یقین و اخلاق کے شریکِ کار ہیں۔ ہماری فولادی دوستی وقت کے ساتھ اور مضبوط ہوئی ہے، تاریخ کی سخت آزمائشوں سے نکھری ہوئی ہے۔"
چین اور پاکستان کے دوستانہ اور تعاون پر مبنی تعلقات عام ریاستی تبادلوں سے بالاتر ہیں۔ یہ قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کی مشترکہ جدوجہد میں پختہ ہوئے اور قدرتی آفات اور خطرات کے مشترکہ ردِ عمل میں بلند ہوئے۔ پاکستان نے ہمیشہ چین کے بنیادی مفادات سے متعلق مسائل پر اسے مضبوط حمایت دی ہے اور چینی عوام ہمیشہ اس بروقت امداد اور ذمہ داری کے احساس کو یاد رکھیں گے۔ اس کے بدلے میں چین نے پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کی کوششوں میں غیر متزلزل حمایت کی ہے۔ نازک لمحات میں اس طرح کی بلا جھجک باہمی حمایت اس "آہنی دوستی" کی سب سے واضح مثال ہے۔
ناقابلِ تسخیر باہمی سیاسی اعتماد: دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور طویل مدتی ترقی کا رہنما
چین اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطحی تبادلے اور سٹریٹجک رہنمائی وہ "anchor " ہے جو دوطرفہ تعلقات کی مستحکم ترقی کو یقینی بناتا ہے۔ پچھتر برسوں میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے قریبی رشتہ داروں کی طرح متواتر تبادلے برقرار رکھے ہیں اور دوطرفہ تعلقات کی سمت متعین کرنے میں رہنمائی فراہم کی ہے۔ سفارتی تعلقات کے ابتدائی دور میں بنیادی دوروں سے لے کر نئی صدی میں بار بار کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں تک، ہر مصافحے اور مکالمے نے دوطرفہ دوستی کو نئے عصری معنی دیئے ہیں اور باہمی سیاسی اعتماد کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
اعلیٰ سطحی چین-پاکستان تعاملات کی سٹریٹجک رہنمائی نہ صرف بالمشافہ تبادلوں میں عیاں ہے بلکہ ادارہ جاتی انتظامات کے ایک سلسلے کے ذریعے بھی گہری اور مضبوط ہوتی ہے۔ چین اور پاکستان نے سفارت کاری، اقتصاد ی و تجارتی، دفاع، سلامتی اور دیگر شعبوں کا احاطہ کرنے والے مکالمے اور تعاون کے طریقہ کار قائم کیے ہیں جو باقاعدہ گیئرز کی طرح کام کرتے ہوئے تعاون کے بڑے جہاز کو موثر اور مستحکم طریقے سے چلاتے ہیں۔ خاص طور پر دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان سالانہ اجلاس کا طریقہ کار مستقبل کے تعاون کی منصوبہ بندی اور بروقت اہم مؤقف کی ہم آہنگی کا سب سے اہم پلیٹ فارم بن گیا ہے۔
طریقہ کار کی حیات اس کے نفاذ میں ہے۔ ہر اعلیٰ سطحی اجلاس میں طے پانے والا اتفاقِ رائے مختلف محکموں کی طرف سے فوری طور پر ٹھوس عملی منصوبوں میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ مشترکہ بیانات کے عظیم الشان وژن سے لے کر مفاہمت کی یادداشتوں کے مخصوص منصوبوں اور زمینی نتائج تک، اعلیٰ سطحی ڈیزائن اور نفاذ کے درمیان ایک موثر بند حلقہ بن گیا ہے۔ سربراہانِ مملکت کی سفارت کاری سے رہنمائی لینے، ادارہ جاتی ترقی سے مدد لینے اور عملی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کا یہ نمونۂ تعامل چین-پاکستان سیاسی تعلقات کی اعلیٰ پختگی اور استحکام کی امتیازی نشانی ہے۔
چین کے لیے تائیوان کا سوال خالصتاً چین کا داخلی معاملہ ہے جو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے تعلق رکھتا ہے اور چین کے بنیادی مفادات کا مرکز ہے۔ اس بنیادی مسئلے پر پاکستان کی ہر حکومت نے ایک منصفانہ موقف برقرار رکھا ہے، مستقل اور غیر مبہم طریقے سے ایک چین کی پالیسی پر قائم رہی ہیں اور واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ اسی طرح، سنکیانگ، شی زانگ اور ہانگ کانگ سے متعلق مسائل پر پاکستان نے ہمیشہ چینی حکومت کے منصفانہ اقدامات کو سمجھا اور ان کی حمایت کی ہےاور انسانی حقوق کے بہانے چین کے داخلی معاملات میں کسی بھی ملک کی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔
چینی کہاوت کے مطابق، "تم مجھے آڑو دو، میں تمہیں سفید یشب کا پتھر دوں۔" چین کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے جائز مؤقف کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کے مطابق مناسب اور پُرامن تصفیے کا حامی ہے۔ جب پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسند قوتوں کے خطرات کا سامنا کرتا ہے تو چین سب سے پہلے مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتا ہے۔ بنیادی مفادات پر اس طرح کی باہمی حمایت چین-پاکستان ہر موسم کی اسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کی سب سے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بنیاد ہے۔
بین الاقوامی منظر نامے پر چین اور پاکستان کی قریبی ہم آہنگی ان کی ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کا اہم ستون ہے۔ دونوں ممالک نے اقوامِ متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر کثیرجہتی ڈھانچوں میں قریبی سٹریٹجک مواصلت اور ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔ دونوں کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی امور تمام ممالک کی مشاورت سے طے ہونے چاہئیں نیز ہر طرح کی یک طرفہ پسندی او ر بالادستی کی مخالفت کی جانی چاہیے۔
علاقائی سطح پر شنگھائی تعاون تنظیم، چین اور پاکستان کے درمیان سلامتی اور ترقیاتی تعاون کو گہرا کرنے کا اہم پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ رکن ممالک کی حیثیت سے دونوں ممالک علاقائی امن و استحکام برقرار رکھنے، دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی "تین قوتوں" سے مقابلہ کرنے اور علاقائی ربط کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرتے ہیں، جنوبی اور وسطی ایشیا کے طویل مدتی استحکام کے لیے مشترکہ طور پر حکمت اور طاقت فراہم کرتے ہیں۔
باہمی مدد اور یکجہتی، چین-پاکستان تعلقات کا سب سے گہرا کردار ہے۔ چینی عوام کبھی نہیں بھولیں گے کہ اصلاح اور کھلے پن کے آغاز میں پاکستان نے چین کو بیرونی دنیا کے ساتھ فضائی راہداری فراہم کی۔ جب 12 مئی 2008ء کو سیچوان میں 8.0 شدت کا زلزلہ آیا تو 16 مئی کو پاکستانی فضائیہ کے دو سی – 130 ٹرانسپورٹ طیاروں نے تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کا امدادی سامان زلزلہ زدہ علاقے میں پہنچایا۔ بعد میں، خیموں کی فوری ضرورت معلوم ہونے پر پاکستان نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر کے تمام 22,260 خیمے فوری طور پر آفت زدہ علاقے کو بھیج دیے۔ 2010ء میں چھنگ ہائی کے یوشو زلزلے کے بعد پاکستانی حکومت نے 300 خیموں اور 2,000 کمبلوں سمیت فوری ضرورت کی اشیا پہنچانے کے لیے دو خصوصی طیارے روانہ کیے۔

اسی طرح جب بھی پاکستان کو بڑی قدرتی آفات کا سامنا ہوتا ہے، چین ہمیشہ سب سے پہلے مدد پیش کرتا ہے۔ 2010 میں پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کے دوران، چینی حکومت نے پاکستان کو 5 کروڑ یوآن مالیت کی انسانی ہمدردی پر مبنی امداد فراہم کی اور پھر 20 کروڑ امریکی ڈالر کی اضافی امداد دی۔ ستمبر 2022 میں پاکستان میں پھر شدید سیلاب آنے پر چینی حکومت نے فوری طور پر 10 کروڑ یوآن کا ہنگامی امدادی سامان فراہم کیا، اور آفت کے بڑھنے کے ساتھ 30 کروڑ یوآن کی اضافی امداد دینے کا فیصلہ کیا۔ 25 ستمبر کو "پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کے لیے چینی عوام" کے عنوان سے چندہ جمع کرنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مجموعی طور پر 12 کروڑ 50 لاکھ یوآن کے فنڈز اور سامان اکٹھے ہوئے۔ 2025میں جب پاکستان میں دوبارہ سیلاب آیا تو چین نے فوری طور پر 20 لاکھ امریکی ڈالر کی ہنگامی امداد فراہم کی اور بعد ازاں 10 کروڑ یوآن کا اضافی امدادی سامان بھیجا۔
2015 میں یمن سے چینی شہریوں کے انخلا کے دوران، چینی بحریہ نے پہلے 176 پاکستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے نکالنے میں مدد کی۔ اس وقت آٹھ چینی طلبا مکلا کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے تھے۔ وہاں ریسکیو آپریشن کرنے والے پاکستانی بحری جہاز کے کمانڈر نے حکم دیا: جہاز اس وقت تک بندرگاہ نہیں چھوڑے گا جب تک چینی طلبا سوار نہ ہو جائیں۔ یہ پُرعزم الفاظ ایک بار پھر ثابت کر گئے کہ چین-پاکستان دوستی "پہاڑوں جتنی اونچی اور سمندروں جتنی گہری" ہے۔
ثمربار عملی تعاون: وسیع مشاورت، مشترکہ شراکت اور مشترکہ فوائد کے ذریعے خوشحالی
چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ اقدام کا ایک اہم پیش رو منصوبہ ہے۔ راہداری نے ان رکاوٹوں کو دور کیا ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو روکتی رہیں۔ اس سے پاکستان میں کل 25.4 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری آئی ہے ،روزگار کے 2,36,000 مواقع پیدا کیے ہیں، پاکستان میں 510 کلومیٹر کی ایکسپریس ویز، 8,000 میگاواٹ بجلی اور قومی بنیادی گرڈ میں 886 کلومیٹر طویل لائنز کا اضافہ کیا ہے۔

پاکستان کے دریائے کنہار پر واقع سکی کناری ہائیڈرو پاور ڈیم منصوبے کا منظر ۔ (تصویر: دَنگ ہائی لونگ)
توانائی کے منصوبے پہلے مرحلے کا مرکزی نکتہ تھے کیونکہ توانائی اور بجلی کی فراہمی پاکستان کی اقتصادی ترقی کی سب سے فوری ضرورت تھی۔ راہداری کی تعمیر کے پہلے مرحلے کے 22 ترجیحی منصوبوں میں سے 11 توانائی کے منصوبے ہیں۔ مشترکہ کوششوں کی بدولت پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور کی کمی کا مسئلہ بنیادی طور پر حل ہو گیا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن بنیادی ڈھانچے میں چار بڑے منصوبے شامل ہیں: شاہراہِ قراقرم مرحلہ دوم اپ گریڈ (حویلیاں-تھاکوٹ)، کراچی-لاہور موٹروے کا سکھر-ملتان سیکشن، لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین اور چین-پاکستان سرحد پار آپٹیکل کیبل منصوبہ۔ چاروں منصوبے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔
گوادر بندرگاہ کی تعمیر اور آپریشن سٹریٹجک طور پر سی پیک کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ یہ کبھی ماہی گیروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا جو بتدریج ایک اہم علاقائی لاجسٹک مرکز اور صنعتی اڈے کے طور پر ترقی پا رہا ہے۔ گوادر بندرگاہ نے پاکستان کو بحیرۂ عرب کا ایک نیا دروازہ فراہم کیا ہے اور "بندرگاہ + صنعتی پارک + شہر" کے نمونے کے ذریعے صوبہ بلوچستان اور مجموعی طور پر پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے نئے ترقیاتی علاقے کھولے ہیں۔
اس وقت سی پیک اعلیٰ معیاری ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ توجہ صنعتی تعاون کی طرف منتقل ہو رہی ہے، جس میں سماجی ذریعۂ معاش، زراعت، سائنس اور ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی نئے ترجیحی شعبے ہیں۔ ML-1 ریلوے لائن کی اپ گریڈنگ پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے سٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ صنعتی تعاون، اعلیٰ معیاری سی پیک ترقی کی سب سے اہم ترجیح ہے جس کے تحت چین، پاکستان کی صنعت کاری کی حمایت کرتا ہے اور چینی کاروباری اداروں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے۔
مستقبل میں سی پیک کی تعمیر میں دونوں فریق مل کر سی پیک کو ترقی،روزگار،جدت و اختراع، سبز معیشت اور وسیع علاقائی ترقی کی راہداری کے طور پر تعمیر کریں گے۔ یہ پاکستان کے "اڑان پاکستان" پروگرام کے ساتھ سٹریٹجک طور پر ہم آہنگ ہوگا جو "5"Es کے فریم ورک (برآمدات؛ ای-پاکستان؛ ماحولیات؛ توانائی؛ مساوات اور بااختیاریت) پر مرکوز ہے۔
چین-پاکستان اقتصادی، تجارتی اور مالیاتی تعاون مسلسل زیادہ متوازن، متنوع اور مثبت سمت میں بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی برسوں میں تجارت زیادہ تر روایتی خام مواد اور بنیادی مصنوعات پر مرکوز تھی؛ آج اعلی ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل اشیا کا حصہ آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہے۔پہلے سے زیادہ چینی مشینری ، برقی مصنوعات اور اعلیٰ ٹیکنالوجی آلات پاکستانی مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ اعلیٰ معیارکی حامل پاکستانی زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، چمڑے کا سامان اور دیگر خصوصی مصنوعات کی چینی صارفین میں مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
چین اور پاکستان کے مرکزی بینکوں کے مابین دستخط شدہ اور تجدید شدہ مقامی کرنسی کے تبادلے کے معاہدے نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے اپنی اپنی کرنسیوں کے استعمال کو آسان بنایا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس مستقبل میں فن ٹیک، سبز مالیات اور شمولیت پر مبنی مالیات جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں وسیع تعاون کی گنجائش ہے۔
زراعت میں، دونوں ممالک مشترکہ طور پر ٹیکنالوجی اور تجربہ بانٹتے ہیں۔ چین کی ہائبرڈ چاول ٹیکنالوجی، پانی کی بچت کرنے والی آبپاشی کی سہولیات اور زرعی انتظام کے جدید نمونے ، پاکستان کے کھیتوں میں جڑ پکڑ چکے ہیں اور پیداوار و آمدنی بڑھانے میں مقامی کسانوں کی مدد کر رہے ہیں۔ طب او رصحت کی دیکھ بھال میں تعاون بھی بارآور ہے۔ خاص طور پر COVID-19 وبا کے خلاف مشکل جنگ کے دوران چین اور پاکستان نے طبی امداد فراہم کرنے کے حوالے سے عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا تعاون کیا، جو "مصیبت میں دوست ہی اصل دوست ہوتا ہے" کی بہترین مثال ہے۔
دل سے دل کا ملاپ — عوامی سطح پر تبادلے: دائمی دوستی کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط کرنا
تعلیمی اور ٹیکنالوجی تعاون، چین-پاکستان تعلقات کے مستقبل کی پرورش کے لیے زرخیز زمین اور دائمی دوستی کے لیے عوامی حمایت کو مضبوط کرنے کی کلید ہے۔ 2025 تک چین میں تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبا کی تعداد 28,023 تک پہنچ گئی۔ چین اور پاکستان نے ایک تعلیمی تعاون کا عملی منصوبہ شروع کیا جس کے تحت چین ،پاکستان کو سالانہ 2,000 حکومتی وظائف فراہم کرتا ہے جو چین میں پاکستانی طلبا کی کل تعداد کا 21.4 فیصد ہے۔ 2014 میں چین میں پاکستانی طلبا کی تعداد 10,000 سے زیادہ تھی جو 2025میں بڑھ کر 28,000 ہوئی یعنی 180 فیصد اضافہ ہوا۔
ثقافتی تبادلے اور میڈیا تعاون ، چینی اور پاکستانی عوام کے دلوں کو نرم بارش کی طرح سیراب کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے فنکار گروپ کثرت سے ایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں۔ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں بھی دونوں ممالک کا تعاون بارآور ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مرکزی میڈیا نے مستحکم تبادلے کے طریقہ کار قائم کیے ہیں اور مشترکہ انٹرویوز، مشترکہ پروڈکشن اورتبادلہ پروگرام کے ذریعے اپنے اپنے ناظرین و سامعین کے سامنے دوست پڑوسی کی ایک جامع، سچی اورسہ جہتی تصویر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مل کر مستقبل کی طرف گامزن: چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی برادری میں نئے ابواب رقم کرنا
چین-پاکستان سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ کے نئے تاریخی نقطۂ آغاز پر ، دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون غیر معمولی بلندیوں پر پہنچ گئے ہیں۔ ماضی کا جائزہ لیں تو چین اور پاکستان نے مل کر خوشی اور غم کا سامنا کیا ہے اور ایک کبی نی ٹوٹنے والی ہر موسم کی دوستی تشکیل دی ہے؛ مستقبل کی طرف دیکھیں تو عالمی منظرنامے کے گہرے ارتقاء اور دونوں ممالک کے ترقیاتی خاکوں کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق زیادہ حکمت اور جرأت کے ساتھ مل کر چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کا نیا خاکہ تیار کریں۔
چین-پاکستان مشترکہ مستقبل کی مزید قریبی برادری تشکیل دینے کے لیے دونوں ممالک کو بنیادی ضمانت کے طور پر باہمی سیاسی اعتماد کو مضبوط بنانا جاری رکھنا ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ بین الاقوامی منظرنامے میں چاہے جیسا بھی بدلاو آئے ، ایک دوسرے کے بنیادی مفادات اور اہم تشویش سے متعلق مسائل پر چین اور پاکستان کی پختہ باہمی حمایت ہمیشہ دوطرفہ تعلقات کی مستحکم ترقی کا سنگِ بنیاد رہے گی۔
اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم عملی تعاون کو اعلیٰ معیار، وسیع علاقوں اور گہرے درجوں تک بڑھائیں۔ ہم نہ صرف توانائی اور نقل و حمل جیسے روایتی شعبوں میں کامیابیوں کو مستحکم کریں گے بلکہ ڈیجیٹل معیشت، سبز ترقی، مصنوعی ذہانت اور بائیو ٹیکنالوجی سمیت ابھرتے ہوئے شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تعاون کے ثمرات دونوں عوام تک زیادہ مساوی طریقے سے پہنچیں، زراعت، طبی دیکھ بھال، تعلیم اور غربت کے خاتمے جیسے شعبوں میں مزید "چھوٹے لیکن خوبصورت" منصوبے شروع کریں۔
موسمیاتی تبدیلی، عوامی صحت کے بحران اور اقتصادی بحالی جیسے عالمی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے، چین اور پاکستان بڑے ،ذمہ دار، ترقی پذیر ممالک کے طور پر کثیرجہتی فورمز پر ہم آہنگی اور تعاون کو مضبوط کریں۔ ہم مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کو مرکز میں رکھنے والے بین الاقوامی نظام کو برقرار رکھیں گے، حقیقی کثیرجہتی کو عملی جامہ پہنائیں گے اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے کثیرجہتی ڈھانچوں میں قریبی تعاون کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو مشترکہ طور پر برقرار رکھیں گے۔
ہمیں یقین ہے کہ پچھتر برسوں میں پختہ ہوئی چین-پاکستان دوستی ایک گہری بنیاد اور مضبوط حیات رکھتی ہے جو دونوں ممالک کو آگے کی راہ پر تمام آزمائشوں اور چیلنجوں پر مشترکہ طور پر قابو پانے کے لیے کافی ہے۔ جب تک ہم باہمی احترام، مساوات، باہمی فائدے اور جیت جیت کے تعاون کے اصولوں پر قائم رہیں، ہم یقینی طور پر چین-پاکستان ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو نئی سطح پر لے جائیں گے اور انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی برادری کی تعمیر میں نئے اور عظیم تر کردار ادا کریں گے۔
چین-پاکستان سفارتی تعلقات کی پچھتر ویں سالگرہ ایک سنگِ میل بھی ہے اور ایک نئی ابتدا بھی۔ تاریخ کے چوراہے پر کھڑے ہوکر، ہمیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی سٹریٹجک رہنمائی اور دونوں عوام کی مشترکہ کوششوں کے تحت، چین-پاکستان ہر موسم کی سٹریٹجک تعاون کی شراکت داری ایک اور زیادہ وسیع اور روشن مستقبل کو گلے لگائے گی۔ آئیں کندھے سے کندھا ملا کر آگے بڑھتے رہیں، اس برادرانہ دوستی کو آگے بڑھائیں جو "پہاڑوں سے اونچی، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے مضبوط" ہے، اور نہ صرف چینی اور پاکستانی عوام کے لیے بہتر زندگی تخلیق کریں بلکہ اس چیلنجنگ دنیا میں مزید استحکام، یقین اور مثبت توانائی کا اضافہ کریں۔
پاکستان-چین دوستی زندہ باد



