
10جولائی 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 8 جولائی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اپنی ورلڈ اکنامک آوٹ لک کے تازہ ترین جائزے میں رواں سال کی عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں معمولی کمی کی گئی ہے ، جب کہ چین کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کو بڑھا کر 4.6 فیصد تک کیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، 2026 میں عالمی اقتصادی ترقی میں 3 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو اپریل کی پیش گوئی سے 0.1 فیصدی پوائنٹس کم ہے۔ اپریل میں 0.2 فیصدی پوائنٹس کی کمی کے بعد یہ دوسری مرتبہ ہے جب آئی ایم ایف نے اپنی عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی کو کم کیا ہے۔یہ تنزلی ،مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے، لیکن اے آئی کی ترقی اور استعمال کی بدولت عالمی ٹیکنالوجی کے شعبے میں طلب کی بنیاد پر ترقی بڑھ رہی ہے جو جزوی طور پر جنگ کے اثرات کی تلافی کر رہی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق، عالمی معیشت کو درپیش منفی خطرات اب بھی نمایاں ہیں۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافے کا امکان موجود ہے، اگر جنگ کی آگ دوبارہ بھڑکتی ہے تو اس سے اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھے گا، سپلائی چین کے تحفظ کو مزید خطرات لاحق ہوں گے، مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور مالیاتی ماحول متاثر ہوگا۔ اگر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی بحالی توقع سے زیادہ تیز رفتاری سے ہوتی ہے اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ توقع سے کم رہتا ہے تو معاشی شرح نمو ، پیش گوئی سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کی تازہ ترین پیش گوئی کے مطابق ، ترقی یافتہ معیشتیں اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس نیز ترقی پذیر معیشتیں اس سال بالترتیب 1.7 فیصد اور 3.8 فیصد بڑھیں گی، دونوں ہی گزشتہ پیش گوئیوں سے 0.1 فیصدی پوائنٹس کم ہیں۔ خاص طور پر،آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں 1.2 فیصدی پوائنٹس کی کمی کرتے ہوئے اسے 0.7 فیصد کر دیا، جبکہ یورو زون کی پیش گوئی میں 0.2 فیصدی پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 0.9 فیصد کی سطح پر لایا گیا ہے۔ امریکہ کی شرح نمو میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ 2.3 فیصد پر برقرار ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں 0.2 فیصد ی پوائنٹس کا اضافہ کر کے 4.6 فیصد کر دیا گیا ہے۔
عالمی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں مجموعی کمی کے باوجود، چین ان چند بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے جس کی اقتصادی ترقی کی پیش گوئی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ چین کی معاشی کارکردگی توقع سے بہتر رہی، جس کی بنیادی وجہ چین کی ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ کی شاندار کارکردگی ہے اور اس شعبے سے متعلق برآمدات نے معیشت کو بھرپور فروغ دیا ہے۔
ورلڈ اکنامک آوٹ لک میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال عالمی مجموعی شرح مہنگائی گزشتہ سال کے 4.1 فیصد سے بڑھ کر 4.7 فیصد ہو جائے گی، جب کہ توقع ہے کہ یہ 2027 میں کم ہو کر 3.9 فیصد ہوگی۔ آئی ایم ایف کے مطابق، اس سال قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور مختلف ممالک میں مہنگائی کی صورت حال یکساں نہیں ہوگی۔



