• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پانڈا بانڈز اور آر ایم بی کا بڑھتا ہوا عالمی کردار

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-07-17

    تحریر: ڈاکٹر وقار احمد ،ایک پاکستانی ماہرِ معاشیات ، سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے سابق جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور اقوامِ متحدہ کے سابق اہلکار ہیں

    دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، آر ایم بی کی بین الاقوامی حیثیت میں بتدریج لیکن مستقل اضافہ جاری ہے۔ ایک محتاط اور بتدریج عمل اب تیز رفتار ترقی کےمرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کی سب سے واضح مثال پانڈا بانڈ کے حالیہ اجرا میں اضافہ ہے۔ اس مارکیٹ کی ترقی ایک دلچسپ کہانی بیان کرتی ہے: غیر ملکی ادارے اب کل اجرا کے حجم کا ایک بڑا حصہ ہیں، جو کہ ایک تاریخی تبدیلی ہے اور یہ اس ارتقا کی نشاندہی ہےکہ ایک مخصوص "ڈومیسٹک ٹول" حقیقی بین الاقوامی مالیاتی چینل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں سے ایشیا، یورپ اور دیگر مقامات سے خود مختار اجرا کنندگان نے اپنا آغاز کیا ہے جب کہ عالمی مالیاتی ادارے باقاعدہ شرکا بن چکے ہیں۔ یہ چین کے اقتصادی امکانات اور مالی استحکام پر مضبوط اعتماد کا اظہار ہے۔

    پانڈا بانڈز کے اجرامیں اضافہ باہم منسلک تین عوامل پر ہے۔

    پہلا، مالیاتی لاگت: چین کی شرحِ سود کا ماحول اجرا کنندگان کو روایتی قرضوں کے مقابلے میں ایک بہتر فائدہ فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خاطر خواہ بچت ہوتی ہے جو آر ایم بی کی مالی اعانت کو مزید پرکشش بناتی ہے۔ دوسرا، کرنسی کا استحکام: جغرافیائی کشیدگی اور زر مبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے دور میں،آر ایم بی نے شاندار لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور ایک معقول و متوازن سطح پر مستحکم رہا ہے۔ یہ پیش گوئی، مضبوط اقتصادی بنیادوں اور محتاط مالیاتی پالیسی کی مدد سے، آر ایم بی کو قدر کے ایک قابل اعتبار ذخیرے میں تبدیل کر چکی ہے۔ تیسرا، ادارہ جاتی گہرائی: چین نے ریگولیٹری فریم ورک کو منظم طور پر بہتر بنایا ہے، طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، آمدنی کے استعمال پر پابندیوں کو نرم کیا ہے، فنڈ ز کی سرحد پار روانی کو بڑھایا ہے اور "رسک مینیجمنٹ" کو مضبوط کیا ہے۔ ان بہتریوں نے بین الاقوامی اجرا کنندگان کے لیے مارکیٹ کو زیادہ قابل رسائی اور پیش گوئی کے قابل بنا دیا ہے، جس سے عالمی تجارتی انتظام اور ادائیگیوں میں آر ایم بی، ایک اہم قوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق، مئی میں پاکستان کی جانب سے پانڈا بانڈز کا اجرا ایک سٹریٹجک سنگِ میل ہے۔ عالمی سطح پر ایک کمزور درجہ بندی والی خودمختار حکومت کے لیے ، کم کوپن کی شرح کا حصول ایک متاثر کن قدم تھا، جو کثیر الجہت اداروں کی جدید کریڈٹ گارنٹی کی بدولت ممکن ہوا۔ بانڈز کی توقع سے زیادہ تصدیق، پاکستان کی میکرو اکنامک استحکام کی کوششوں میں نئے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے ۔ اگرچہ جمع شدہ رقم ملک کی بیرونی مالی ضروریات کا صرف ایک حصہ ہے لیکن اصل کامیابی اس کے قرض کے پورٹ فولیو کو روایتی مارکیٹس پر بھاری انحصار سے دور لے جانا ہے، جس سے اہم پالیسی گنجائش پیدا ہوتی ہے اور دیگر ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ایک قابل عمل مثال قائم ہوتی ہے۔ یہ تجربہ ایک قابلِ عمل مثال قائم فراہم کرتا ہے: کثیر جہتی ضمانت کی معاونت، حاصل شدہ فنڈز کا پائیدار استعمال اور چین کی گہری اور لیکوئیڈ بانڈ مارکیٹ تک رسائی کا مجموعہ ایک ایسا ماڈل فراہم کرتا ہے جسے اسی طرح کی مالی مشکلات کا سامنا کرنے والی ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنا سکتی ہیں۔

    ترقی پذیر ممالک کے لیے، کسی ایک کرنسی سے آگے بڑھ کر بیرونی مالیاتی تنوع، کسی خاص مالیاتی نظام کی مخالفت نہیں بلکہ ایک محتاط "رسک مینیجمنٹ " کا معاملہ ہے ۔ پاکستان کے تجربے نے دکھایا ہے کہ آر ایم بی کسی ملک کے بیرونی قرض کے پورٹ فولیو کی میچورٹی، کرنسی اور لاگت کےسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے ،ایک اضافی چینل فراہم کرتا ہے۔ یہ تنوع، مذاکرات کی صلاحیت اور پالیسی گنجائش کو بڑھاتا ہے، جس سے ممالک کو مالیاتی شرائط کا موازنہ کرنے، ادائیگیوں کو زیادہ لچکدار طریقے سے ترتیب دینے اور زیادہ مضبوط بنیاد پر مذاکرات کرنے کی سہولت ملتی ہے۔ متعدد مالیاتی ذرائع کی موجودگی سے کسی ملک کی تمام قرض دہندگان کے ساتھ ساکھ بہتر ہوسکتی ہے، جس سے زیادہ متوازن تعلقات کو فروغ ملتا ہے۔ اس لحاظ سے، پانڈا بانڈز نہ صرف مالی پائیداری میں مدد دیتے ہیں بلکہ تعاون اور مارکیٹ پر مبنی فریم ورک کے اندر،ترقی پذیر ممالک کی وسیع اقتصادی خودمختاری میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

    یہ اجرا، چین-پاکستان اقتصادی تعاون میں ایک اہم ترقیاتی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پانڈا بانڈ ،فطری طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے نئے مرحلے سے بہترین طور پر منسلک ہوتا ہے۔یہ ایک مارکیٹ پر مبنی مالیاتی میکانزم فراہم کرتا ہے جو اس وقت سی پیک کی خصوصیات واضح کرنے والی گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ فائنانسنگ کی تکمیل کرتا ہے۔ مزید برآں، اس لین دین نے وسیع تر مالی تعاون کو متحرک کیا ہے: پاکستانی مالیاتی اداروں نے چینی ہم منصبوں کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں تاکہ سرحد پار مالی معاونت اور آر ایم بی کاروبار کو مضبوط بنایا جا سکے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان مالی رابطے میں اضافہ ہوا ہے۔

    آنے والے وقت میں، پانڈا بانڈ مارکیٹ میں مزید ترقی متوقع ہے۔ جیسے جیسے مزید خود مختار اجرا کنندگان، کثیر جہتی ادارے اور ملٹی نیشنل کارپوریشنز مارکیٹ میں داخل ہوں گی، سرمایہ کاروں کی بنیاد وسیع ہوگی اور مصنوعات کی حد وسیع اور متنوع ہوگی۔ امکان ہے کہ گرین پانڈا بانڈز اور پائیداری سے منسلک سٹرکچر کو نمایاں حیثیت حاصل ہوگی، جو کم کاربن معیشت کی جانب منتقلی کی عالمی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ پانڈا بانڈز کی قبولیت میں اضافہ ، چین کے لیےمالیاتی کھلے پن اور کرنسی کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے مستقل، متحمل انداز کی توثیق کرتی ہے۔آر ایم بی کو "زبردستی" عالمی سطح پر نہیں پیش کیا جا رہا؛ بلکہ یہ مارکیٹ کے طاقت ور عوامل، کم مالیاتی لاگت، کرنسی کے استحکام اور ادارہ جاتی اعتبار سے حقیقی فوائد کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر جا رہا ہے۔ یہ مارکیٹ پر مبنی قدرتی عمل ،بین الاقوامی سطح پر جانے کا سب سے پائیدار راستہ ہے۔

    ویڈیوز

    زبان