18اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) کیا سورج غروب ہونے کے بعد بھی ایک سولر پاور پلانٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے؟
شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر ہامی میں، فریسنل ریفلیکٹرز کی قطاریں سورج کا تعاقب کرتی محسوس ہوتی ہیں۔ یہ ری فلیکٹر سورج کی روشنی کو تھرمل انرجی میں مرتکز کرتے ہیں اور اسے پگھلے ہوئے نمک کے ذریعے ذخیرہ کرتے ہیں۔ جب رات ہوتی ہے، تو یہ ذخیرہ شدہ حرارت خارج ہوتی ہے جس سے بجلی کی پیداوار کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ یہ سورج کی روشنی کے لیے ایک بڑے پاور بینک کی مانند کام کرتی ہے۔
مرتکز شمسی توانائی (CSP) اور فوٹو وولٹک (PV) ٹیکنالوجی دونوں کو ملا کر بنایا گیا یہ مربوط منصوبہ، ایک ملین کلو واٹ (kW) کی مجموعی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں 900,000 کلو واٹ کا فوٹو وولٹک پاور سٹیشن اور 100,000 کلو واٹ کا فریسنل مولٹن سالٹ کا سی ایس پی پلانٹ شامل ہے، جس کی سولر فیلڈ تقریباً 800,000 مربع میٹر کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے۔
سورج کی روشنی کا تعاقب کرنے اور حرارت ذخیرہ کرنے سے لے کر توانائی پیدا کرنے تک، شمسی توانائی صحرائے گوبی میں دن اور رات کی حد سے آگے بڑھ چکی ہے۔



