6اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں، اے آئی اب صرف سکرین پر نہیں بلکہ کھانا پکاتے روبوٹ ، صارفین کو سروسز فراہم کرتے روبوٹس، آلات کی جانچ کرنے اور روزمرہ زندگی کے معمولات میں مدد فراہم کرنے والے روبوٹس کی صورت میں بھی نظر آرہی ہے۔
ہسپانوی فلم ساز لیری لیوین نے ہانگ جو ایمباڈیڈ انٹیلی جنس ایگزیبشن سینٹر میں اس تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔ اس سینٹر میں رئیل-ورلڈ سیٹنگز کے لیے ڈیزائن کردہ روبوٹ موجود ہیں۔لیری کا کہناتھاکہ انہوں نے مشینوں کو مارشل آرٹس کرتے، شطرنج کھیلتے اور مساج کرتے دیکھا جو کہ دلچسپ تھا، لیکن اس سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ اے آئی کتنی تیزی سے ایسی جگہوں پر بھی داخل ہوچکی ہے جو پہلے صرف انسانوں کے لیے مخصوص تھیں۔
یہی تبدیلی انہیں شہر کے دیگر مقامات پر بھی نظر آئی۔ ایک روبوٹ ریستوران میں، مشینز نے نوڈلز نکالے، پکوان تیار کیے، کافی بنائی اور آئس کریم تیار کی۔ یہ ریستوران نہ صرف سیاحوں کے لیے ایک نیا تجربہ ہے بلکہ یہ کام کرنے کا ایک ایسا ماحول بھی فراہم کرتا ہے جہاں روبوٹک سسٹمز کو روزمرہ کی خدمات میں آزمایا جا سکتا ہے۔
لیری کے سفر کا سب سے اہم لمحہ وہ تھا جب انہوں نے ہانگ جو تھونگ شنگ ٹیکنالوجی میں نابینا اور بصری طور پر معذور صارفین کے لیے تیار کردہ اے آئی گلاسز لگائے ۔ یہ گلاسز کیمرے، اے آئی ماڈلز اور صوتی ہدایات کو یکجا کرتے ہیں، جو ماحول کی وضاحت کرتے ہیں، سائن اور مینیو پڑھتے ہیں، رکاوٹوں کو شناخت کرتے ہیں اورگلاسز پہننے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔جب اے آئی گلاسز کے ذریعے ارد گرد کے ماحول کی وضاحت کی گئی تو یہ لیری کے لیے بے حد متاثر کن تجربہ تھا۔ انہوں نے اے آئی کے ذریعے نئے تجربات یا سہولت سے زیادہ انسانی ضروریات کا حل دینے کے پہلو کو بہت سراہا۔
یہ دورہ لیری کے لیے کچھ سوالات بھی چھوڑ گیا۔ روبوٹ اور اے آئی سسٹمز تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، لیکن ملازمتوں، رویوں اور انسانی تعلقات پر ان کے اثر ات ابھی تک غیر حتمی ہیں۔ چیلنج ، مشینوں کو زیادہ قابل بنانا ہی نہیں، بلکہ یہ فیصلہ کرنا بھی ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو کہاں تک بہتر بناتی ہیں اور کہاں انسانی موجودگی اب بھی سب سے زیادہ اہم ہے۔



