
20اگست 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) 19اگست کو، چین کی کمپنی یونی ٹری اے-شیئر مارکیٹ میں شامل ہوگئی ہے۔ پہلی مرتبہ کسی ہیومنائیڈ روبوٹ بنانے والی کمپنی کا اس مارکیٹ میں شامل ہونا چین کی ہیومنائیڈ روبوٹ انڈسٹری کی ایک اہم پیش رفت ہے، جو کہ ٹیکنالوجی کی ترقی سے بڑے پیمانے پر تجارتی پیداوار کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔
کمپنی کے شیئرز نے 1,100 یوان (تقریباً 161.99 امریکی ڈالر) کے ساتھ شنگھائی سٹاک ایکسچینج سائینس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن بورڈ، STAR مارکیٹ پر آغاز کیا اور ان میں تیزی کے ساتھ 629.44 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آئی اور سٹاک ابتدائی عوامی پیشکش کی مالیت سے 460.34 فیصد بڑھ کر 845 یوان پر بند ہوا۔
روبوکپ ایشیا پیسیفک کنفیڈریشن کے صدر جو چھانگ جیو کا کہنا ہے کہ یونی ٹری کا کیپٹل مارکیٹ کی جانب بڑھنا یہ اہم پیغام دیتا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹ اور ایمباڈیڈ اے آئی اب ٹیکنالوجی کے ترقیاتی مراحل، مسابقت پر مبنی توثیق اور مصنوعات میں بہتری کے دور سے نکل کر صنعت کاری، توسیع پذیری اور کیپٹل مارکیٹ میں زیادہ قبولیت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ یہ نہ صرف کمپنی کے لیے ایک اہم قدم ہے، بلکہ چین کی روبوٹکس اور ایمباڈیڈ اے آئی صنعت کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔
یونی ٹری کے مطابق، ترسیل 2025 میں کمپنی کی ہیومنائیڈ روبوٹس کی ترسیل، 5,500 سے تجاوز کر گئی اور عالمی سطح پر 32.4 فی صد مارکیٹ شیئرز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جب کہ اس کی چو پایہ نما روبوٹس کی ترسیل 33,000 یونٹس سے زائد تھی، جس کا گلوبل مارکیٹ شیئر تقریباً 60 فیصد ہے۔
ہیومنائیڈ روبوٹس کے لیے ڈاون سٹریم ایپلی کیشن سنیریوز کی تدریجی توسیع اور مستحکم مارکیٹ کی طلب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، کمپنی نے 2026 کے پہلے نصف میں تقریباً 1.15 بلین یوان کی آمدنی حاصل کی، جو گزشتہ سال کی نسبت 48.54 فیصد زیادہ ہے۔
یونی ٹری کے مطابق چونکہ اب یہ کاروبار، روبوٹ کی تیاری سے بڑھ کر اعلیٰ کارکردگی والے عمومی مقاصد کے روبوٹ کے لیے ایک وسیع تر ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب بڑھ رہا ہے لہذا جمع کردہ فنڈز کو انٹیلی جنٹ روبوٹ ماڈل کی ترقی، روبوٹ ہارڈویئر کی تحقیق و ترقی، نئی مصنوعات کی ترقی اور مینوفیکچرنگ بیس کی تعمیر پر صرف کیا جائے گا۔
سٹار مارکیٹ میں شمولیت سے پہلے، یونی ٹری نے محض تین ماہ میں تیار کیا جانے والا اپنا ہیومنائیڈ روبوٹ "سپر مین" پیش کیا۔ 0.85 میٹر لمبی ٹانگوں والا یہ روبوٹ دو میٹر اونچی چھلانگ لگا سکتا ہے اور 12.66 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے، جو انسان کے دوڑنے کے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔
مارکیٹ کی پیش گوئیاں ترقیاتی پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہیں۔ بین الاقوامی ڈیٹا کارپوریشن کے مطابق، 2030 تک گلوبل ہیومنائیڈ روبوٹ کی ترسیل 510,000 یونٹ سے متجاوز ہونے کی توقع ہے، جو سالانہ تقریباً 95 فیصد کی شرح سے بڑھے گی۔ ٹرینڈ فورس کے مطابق آٹوموٹیو، کنزیومر الیکٹرانکس، فضائیہ، لاجسٹکس اور توانائی جیسے شعبوں میں چین کے ہیومنائیڈ روبوٹس کے استعمال کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2026 میں ان روبوٹس کی مارکیٹ 15 بلین یوآن تک پہنچ جائے گی، جس میں 2027 کے دوران پیداوار اور ایپلی کیشنز کی توسیع کے ساتھ کم از کم 60 فی صد کا اضافہ ہوگا۔
چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے میں مستقبل کی صنعتوں کی ترقی کے لیے مستقبل بین خاکہ پیش کیا گیا ہے، جس میں مجسم مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ نئے ابھرتے ہوئے شعبوں کی فنڈنگ میں اضافہ کرنے اور خطرات کی باہمی تقسیم کے طریقے شامل ہیں۔
اس پالیسی کے پس منظر میں، ہارڈ ٹیک کمپنیز کی STAR مارکیٹ میں شمولیت کی رفتار بڑھ رہی ہے، جن میں چین کی میموری چپ ساز کمپنی چھانگ شِن میموری ٹیکنالوجیز (CXMT) بھی شامل ہے، جس کی پچھلی ماہ کی شروعات نے اسے چین کی اے-شیئر مارکیٹ میں سب سے قابلِ قدر کمپنی بنا دیا۔
نان کھائی یونیورسٹی کے ادارہ برائے مالیاتی ترقی کے سربراہ تھیان کی ہوئی کا کہنا ہے کہ ہارڈ ٹیک کمپنیز کی نئی مارکیٹ میں شمولیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین کی اقتصادی ترقی کی بنیادی منطق میں تبدیلی آئی ہے اوراب ٹیکنالوجی، ترقی کا مرکزی محرک بن گئی ہے۔



