2 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کا سپیس کمپیوٹنگ کلاؤڈ، مدار میں باضابطہ طور پر تجرباتی خدمات فراہم کرنے لگا ہے۔ اس منصوبے کی قیادت بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز (BUPT) کر رہی ہے۔ آربیٹل کمپیوٹنگ پاور کی یہ سہولت مدار کے اندر سیٹلائٹ پلیٹ فارمز، سپیس سرورز، گراونڈ سٹیشنز اور ڈیٹا سینٹرز کے مابین مکمل خودکار آپریشنز فراہم کرتی ہے، جس سے دنیا بھر کے صارفین کو ٹاسک کی جمع آوری، تعیناتی، عمل درآمد، نگرانی اور نتائج کی ترسیل تک کے مکمل دورانیے کی خدمات ملتی ہیں۔
سپیس کمپیوٹنگ، ایک ایسی کمپیوٹنگ پیراڈائم ہے جو کہ ڈیٹا پروسیسنگ، سٹوریج، ذہین تجزیے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو مدار میں، سیٹلائٹس اور سپیس سٹیشنز جیسے پلیٹ فارمز پر استعمال کرتی ہے۔
چین کا کمپیوٹنگ کلاؤڈ پلیٹ فارم جسے بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز نے 2021 میں لانچ کیا تھا ،تھیان سوان کانسٹیلیشن پر کام کرتا ہے جو کہ خلا میں دنیا کی پہلی کمپیوٹنگ کانسٹیلیشن ہے جس نے، زمین کی زیریں مدار میں 16 سیٹلائٹس اور سات گراونڈ اسٹیشنز تعینات کیے ہیں، مدار میں تجربات کے سلسلے میں 60 سے زائد اداروں کو معاونت فراہم کی ہے اور 50 سے زائد ممالک اور علاقوں کے محققین کو اپنے ماحولیاتی نظام کی طرف متوجہ کیا ہے۔
اس میں، دوبارہ قابل استعمال پلیٹ فارم پر مبنی خدمات کی تعمیر، آن بورڈ سافٹ ویئر کی طویل مدتی قابل بھروسہ کارروائیوں کی معاونت نیز سپیس ڈیٹا کی فوری پروسیسنگ اور خود مختار سیٹلائٹ فیصلہ سازی کے لیے بنیاد فراہم کرنے جیسی کئی اہم تکنیکی صلاحیتیں ہیں۔یونیورسٹی کے مطابق، اپنی خدمات کا آغاز کرنے کے بعد سے اس پلیٹ فارم نے خلا میں بِگ ڈیٹا کمپیوٹنگ اور 6 جی مواصلات جیسے امور میں مدد فراہم کی ہے اور 100 سے زائد صارفین نے توانائی کی مؤثر خدمات تک رسائی حاصل کی ہے۔
اپریل میں بیجنگ میں منعقدہ سپیس کمپیوٹنگ انڈسٹری کانفرنس 2026 میں، سائنس، ٹیکنالوجی و صنعت برائے قومی دفاع کی ریاستی انتظامیہ کے کمرشل سپیس ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر یو گوو بِن نے بتایا تھا کہ، روایتی ڈیٹا سینٹرز توانائی کی زیادہ کھپت، محدود زمینی وسائل، ٹھنڈک کے لیے زیادہ اخراجات اور محدود کوریج کی وجہ سے مستقبل کی ضروریات کے مطابق، انتہائی وسیع پیمانے پر، سبز اور عالمی سطح پر پھیلی ہوئی کمپیوٹنگ پاور کی طلب کو پورا کرنے میں ناکام ہیں، جب کہ سپیس کمپیوٹنگ ایک زیرو کاربن، پائیدار اور وسیع پیمانے پر قابل رسائی متبادل فراہم کرتی ہے۔ سپیس-بیسڈ کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی، ہنگامی ردِ عمل، سمندری مشاہدے، ہوا بازی و جہاز رانی اور قطبی مہمات کے لیے حقیقی وقت اور ذہین خدمات فراہم کر سکتی ہے۔
یونیورسٹی کے مطابق، اس پلیٹ فارم کی قدر، سپیس انفارمیشن انڈسٹری کو ہارڈ ویئر کی ترسیل سے مستقل خدمات کی ترسیل کی طرف منتقل کرنے میں معاونت فراہم کرنے، سیٹلائٹ انٹرنیٹ، 6 جی، کمرشل سپیس اور ہنگامی مواصلات میں صنعتی ترقی کے نئے شعبوں کو فروغ دینے میں ہے۔ ان میں سے کچھ شعبے ان اہم ابھرتی ہوئی صنعتوں میں شامل ہیں جنہیں چین، اگلے پانچ سالوں میں فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔



