• صفحہ اول>>چینی معاشرت

    تین رپورٹر کے نوٹس—جی رونگ بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑک دوبارہ کھول دی گئی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-09-03

    عنوان:آگے بڑھنا، جی رونگ بندرگاہ کی طرف پیش قدمی

    " جی رونگ بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑک کامیابی سے بحال کر دی گئی!"

    اس خبر سے پورے جی رونگ ٹاؤن میں کھلبلی مچ گئی۔ سڑکوں پر پہلے سے کھڑی ریسکیو گاڑیوں کے انجن جاگ اٹھے اور ریسکیو ٹیمز تیزی سے جی رونگ بندرگاہ کے سرحدی علاقے کی طرف روانہ ہوئیں۔

    متحرک ہونا سب کی خواہش تھی۔ جب سے یہ حادثہ ہوا ہے لاپتہ اور جاں بحق افراد کی حالت سے ہر ایک کا دل مضطرب تھا۔ مگر قومی شاہراہ جی 216 کے کچھ حصے تباہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو فورسز کو جائے حادثہ سے باہر ہی رکنا پڑا، ان کی طاقت کام نہیں آ رہی تھی۔

    حرکت کرتے رہنے کا مطلب ہے امید کی کرن۔ اس حادثے کو ایک ہفتے سے زیادہ گزر چکا ہے، لیکن پھر بھی جاں بحق اور لاپتہ افراد کی تلاش رکنی نہیں چاہیے۔ چاہے وہ مرکزی مقام پر مصروف ریسکیو اہلکار ہوں یا جی رونگ ٹاؤن میں انتظار کرنے والے لوگ، کسی کے دل سے بھی یہ خیال مٹا نہیں۔

    جی رونگ ایگزٹ انٹری بارڈر انسپکشن اسٹیشن کے پولیس افسر شاو فو گوئی نے سب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ:"ہمیں اندر جانا ہے، زمین کے ایک ایک انچ کو کھوجنا ہے۔"

    جی رونگ ٹاؤن کی اچانک 'خاموش' ہونے والی سڑکوں پر چلتے ہوئے، جب دکانوں کے سامنے لگے قومی پرچم نظر آئے تو دل جوش و ولولے سے لبریز ہوگیا۔ تباہی بے رحم ہے، مگر یہ ہمیں روک نہیں سکتی۔ کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، ہم ایک ایک کر کے ان پر قابو پا لیں گے۔

    ابھی بحال ہونے والی سڑک پر چلتے ہوئے—آگے، جی رونگ بندرگاہ کی طرف بڑھیں!

    عنوان:ایک ایک میٹر کرتے آگے بڑھیں

    تقریباً ایک ہفتہ قبل کی مصروف جی رونگ بندرگاہ، تباہی کے بعد ایک 'تنہا جزیرہ' بن گئی۔ پہاڑی سلسلوں میں گھری جی رونگ کاونٹی میں بارش اور خطرات کے خلاف اور سڑکوں کی بحالی کے لیے ایک جنگ شروع ہو گئی۔

    کئی دن اور راتیں—کانوں میں صرف مشینری کی آواز گونجتی تھی اور آنکھوں کے سامنے دوڑتے بھاگتے لوگ۔ ایک ایک میٹر کر کے ریسکیو اہلکار مسلسل آگے بڑھتے رہے اور مشینیں نہیں رکیں تاکہ امید کی اس راہ کو جلد از جلد کھولا جا سکے۔

    سڑکوں کی بحالی صرف اس ایک سڑک کا معاملہ نہیں ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ چونکہ سڑک خراب تھی اس لیے وہ صرف رسی سے نیچے اتر کر یا پیدل چل کر ہی آگے بڑھ سکتے تھے، جس میں نہ صرف جسمانی مشقت زیادہ تھی بلکہ خطرات بھی تھے نیز تلاش کا دائرہ کار اور ریسکیو کی رفتار بھی بہت متاثر ہوتی تھی۔

    جیسے ہی سڑک کھلی، مختلف ریسکیو فورسز کے 'بڑے دستے' اپنے آلات اور سامان کے ساتھ متاثرہ علاقے تک پہنچے، اپنے اہداف اور کاموں کی تقسیم کے بعد انہوں نے فوری طور پر لوگوں کی تلاش، خطرات کی نشاندہی، سامان کی منتقلی وغیرہ کی کارروائیاں شروع کر دیں۔

    جب بھی ہم کیچڑ زدہ حصے کو صاف کرتے ہیں اور سڑک کو ایک میٹر آگے بڑھاتے ہیں تو دراصل امداد و بچاو کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کو کم کرتے ہیں۔ یہ سڑک نہ صرف گاڑیوں اور سامان کے لیے گزرگاہ ہے بلکہ یہ لوگوں کی امیدوں کو آگے بڑھانے کا راستہ بھی ہے۔

    عنوان:ہر منٹ ساٹھ سیکنڈ سے زیادہ طویل ہے

    جی رونگ بندرگاہ کی طرف جانے والی سڑک کھل گئی۔

    2ستمبر کی صبح، چائنا آن نینگ کنسٹرکشن گروپ کی قائم کردہ سکیورٹی لائن سے خبر آئی—پہلے ایک چیخ، پھر قدموں کی آواز۔ جلد ہی سکیورٹی لائن کے باہر لوگ جمع ہونے لگے۔ ریسکیو اہلکار، کوئی اپنی پیٹھ پر سامان لادے، کوئی بیلچہ کندھے پر رکھے، سب بے چینی سے پہاڑی درے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

    پچھلی رات، میں ریسکیو اہلکاروں کے ساتھ ایک خیمے میں بیٹھا تھا—صرف بیٹھے تھے کچھ بھی نہیں کر رہے تھے۔

    یہ رات واقعی طویل تھی۔ میں کئی بار سکیورٹی لائن کے قریب گیا، وہاں کچھ سکیورٹی اہلکار روشنی کے نیچے کھڑے تھے اور ان کے سائے بہت لمبے ہوگئے تھے۔ پلیٹو کی تنگ وادیوں میں رات بہت ٹھنڈی ہوتی ہے، وادی کے درے سے ہوا اور بارش آرہی تھی، میں نے اپنی جیکٹ مزید مضبوطی سے کس لی۔

    اگلی صبح سب سڑک کھلنے کی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ انتظار بھی ریسکیو آپریشن کا حصہ ہے۔

    ان دنوں سب سے زیادہ سنے جانے والے دو الفاظ تھے:"ہر وقت تیار" اور "کسی بھی طرح سے"۔ پہلا حکم کی تعمیل، دوسرا ذمہ داری نبھانے کا عزم۔ ان تباہ کن حالات میں ان سادہ ترین الفاظ میں ذمہ داری کا سب سے مضبوط احساس ملتا ہے۔

    آنے والے احکامات—ریسکیو اہلکار سب سے زیادہ انہی کے منتظر تھے۔

    سکیورٹی لائن کے باہر ہر گزرتا منٹ سڑک کے ہر میٹر میں اضافے کی تصدیق کرتا تھا۔ اس انتظار میں ہر منٹ ساٹھ سیکنڈ سے بھی زیادہ طویل لگتا تھا۔ مگر جیسے جیسے سڑک آگے بڑھتی گئی، احکامات دینے کے لیے ایک اور قدم آگے بڑھتا گیا۔

    اپنی پوری کوشش کریں، ہر لمحے کا انتظار قابلِ قدر ہے۔

    ویڈیوز

    زبان