1 ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)دیکھنا، سننا، سونگھنا، چھونا اور حرکت کرنا یہ تمام حسیات انسانی ادراک کی بنیاد ہیں۔ جیسے جیسے اے آئی ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے ،یہ اپنی ڈیجیٹل "حسیات" کا سیٹ بڑھا رہی ہے۔
امریکی نژاد اینڈریو سمتھ ،صوبہ گوئے جو کے دارالحکومت گوئی یانگ میں منعقدہ چائنا انٹرنیشنل بگ ڈیٹا انڈسٹری ایکسپو 2026 میں، ان ابھرتی ہوئی حسیاتی تکنیکوں کا جائزہ لیتے ہیں اور ہمیں دکھاتے ہیں کس طرح مصنوعی ذہانت ، ہر حس کے حساب سے حقیقی دنیا سے زیادہ براہ راست تعلق قائم کر رہی ہے۔
ڈیٹا نائٹ ایگزیبشن ہال میں ،سمارٹ گلاسز بصری تعامل کو بہتر بناتے نظر آتے ہیں۔ صوتی الگوردھمز مشینوں کو گرج ، گڑگڑاہٹ اور زلزلوں جیسی آواز و ارتعاش کو سمجھنے کے قابل بناتے ہیں۔ سونگھنے والے روبوٹ ماڈیولز گیس کے رسنے اور کھانے کے خراب ہونے کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ قوتِ لامسہ کے سینسرز اور ڈیٹا پر مبنی دستانے اے آئی کو طاقت، سمت اور حرکت کا اندازہ لگانے کی صلاحیت دیتے ہیں جب کہ مجسم ذہانت، روبوٹ کو حرکت اور عمل میں مزید درستگی کی طرف بڑھاتی ہے۔
مصنوعی ذہانت صرف ڈیٹا پروسیسنگ تک محدود نہیں رہی،یہ دیکھنے، سننے، سونگھنے اور چھونے سے لے کر خودمختار حرکت تک بتدریج ہمارے حقیقی ماحول کو سمجھنے اور اسے جاننے کے قابل ہو رہی ہے۔



