• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین کی سمارٹ فارمنگ نے  جدت و اختراع سے   زرعی امور کو  ایک نئی زندگی دی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-07-31

    مشرقی چین کے صوبےآنہوئی کے شہر ووہو کی ٹاون شپ پنگ پو کے فوشی فارم پر ، زرعی تکنیکی ماہرین کیڑوں کی نگرانی کے ریموٹ نظام کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (شیاو بین شیانگ/ پیپلز ڈیلی آن لائن )

    مشرقی چین کے صوبےآنہوئی کے شہر ووہو کی ٹاون شپ پنگ پو کے فوشی فارم پر ، زرعی تکنیکی ماہرین کیڑوں کی نگرانی کے ریموٹ نظام کا معائنہ کر رہے ہیں۔ (شیاو بین شیانگ/ پیپلز ڈیلی آن لائن )

    31 جولائی2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)مشرقی چین کے صوبےآنہوئی کے شہر ووہو کی ڈسٹرکٹ فان چانگ کے گاوں شن لن کے فوشی فارم میں ، موسم گرما کی دھوپ میں چاول کی فصل دمک رہی ہے ۔ زرعی روبوٹ ، مقررہ طریقہِ کار کے مطابق کھیتوں میں سے گزرتے ہیں اور فصل کی صورتِ حال کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ حساس آلات مٹی کی نمی، موسمی حالات اور کیڑوں کے پھیلاؤ کے بارے میں رئیل ٹائم ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں جو کہ فارم کے مرکزی کمانڈ ہب میں منتقل کیا جاتا ہے۔ زرعی مینیجر حو گوان گو ، جو روبوٹ کو ٹیبلیٹ کے ذریعے آپریٹ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ کمانڈ ہب ، پورے فارم کے دماغ کا کام کرتا ہے اور انٹی گریٹڈ سمارٹ سسٹم ، دفتر میں بیٹھے بیٹھے ہی جامع فیلڈ مینجمنٹ کی سہولت دیتا ہے۔

    چین کا زرعی منظر نامہ تکنیکی تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے،مصنوعی ذہانت، بڑے اعداد و شمار کے تجزیات اور کم بلندی پر کام کرنے والے فضائی نظام اپنے آپریشنل افعال کو بڑھا رہے ہیں ۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے ذریعے شروع کیا گیا فوشی فارم ،سمارٹ ایگریکلچر پائلٹ پروجیکٹس میں سے ایک ہے۔ اس کے کامیاب ماڈل کو اب اندرونی منگولیا، چونگ چنگ، آنہوئی اور ہوبی میں نقل کیا گیا ہے، جو کمرشلائزیشن اور بڑے پیمانے پر استعمال کی جانب بڑھ رہا ہے۔سی اے ایس انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کے ایک سینئر انجینئر چانگ یو چنگ کا کہنا ہے کہ ، روایتی کاشتکاری میں کافی غیر متوقع صورتِ حال شامل ہوتی ہے ۔ تاہم بگ ڈیٹا پودے لگانے کے نظام الاوقات سے لے کر آبپاشی کے طریقہ کار اور کیڑوں پر قابو پانے تک، ہر قدم پر مستعد رہتے ہوئے تجزیہ پیش کرتا ہے تاکہ بہترین طریقےکا انتخاب کیا جاسکے۔

    فوشی فارم میں، نمی کے ضوابط، موسم کی موافقت، اور کیڑوں کے حوالے سے پیش گوئی کے لیے موزوں ماڈلز اور الگوردھم تیار کیے جا رہے ہیں اور مکمل درستگی کی حامل زرعی کارکردگی بڑھانے کے لیے انہیں مزید بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ پیداوار کے استحکام اور پیداواری فوائد دونوں کا حصول ہو سکے۔

    مشرقی چین کے صوبہ جی جیانگ کی ٹاون شپ گوانگ چن میں ایک سمارٹ ایگریکلچر ڈیمونسٹریشن پارک میں روبوٹ سلاد اگا رہے ہیں۔ (وانگ زی جئے/پیپلز ڈیلی آن لائن)

    مشرقی چین کے صوبہ جی جیانگ کی ٹاون شپ گوانگ چن میں ایک سمارٹ ایگریکلچر ڈیمونسٹریشن پارک میں روبوٹ سلاد اگا رہے ہیں۔ (وانگ زی جئے/پیپلز ڈیلی آن لائن)

    چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کے ایک اہلکار کے مطابق، سمارٹ فارمنگ سسٹم کو فصلوں کی کاشت، مویشیوں کی افزائش اور آبی زراعت کے شعبوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ مربوط پلیٹ فارمز ، انٹیلی جنٹ سینسنگ، وسائل کے حوالے سے فیصلہ سازی، اور عمل کو کنٹرول کرنے کے قابل بناتے ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت، وسائل کے استعمال کی کارکردگی، اور زمین کی فی یونٹ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

    اس رجحان کی عکاسی کرتے ہوئے، مویوان فوڈ کارپوریشن لمیٹڈ کا تیار کردہ ، معائنہ کرنے والا خود مختار روبوٹ وسطی چین کے صوبے ہینان کے نئیشیانگ کاؤنٹی کے گاوں دا ہوالنگ میں مویشیوں کے سمارٹ فارم میں جانوروں کے ڈیجیٹل ڈاکٹر کے طور پر کام کررہا ہے۔ متعدد سینسرز سے لیس یہ روبوٹ ، جانوروں کے بائیومیٹرکس کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور تکنیکی ماہرین کو کسی بھی بے قاعدگی سے آگاہ کرتا ہے۔کمپنی کے انٹیلی جنٹ ڈائیگناسٹکس کے سربراہ ، حو یی یونگ بتاتے ہیں کہ، انفراریڈ تھرموگرافی اور سمارٹ تھرمامیٹر ، درجہ حرارت کے غیر معمولی اتار چڑھاو کا پتہ لگاتے ہیں۔

    دریں اثنا، مشرقی چین کے صوبے شاندونگ کے شہر لائجو میں، صنعتی آبی زراعت کی سہولیات ، انٹیلی جنٹ فیڈنگ سسٹمز کا استعمال کر رہی ہیں جو خوراک کی درست مقدار فراہم کرنے کے لیے مچھلی کے رویے اور نشوونما کے نمونوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایک مقامی زرعی آبی کمپنی کے ڈپٹی جنرل مینیجر لی وین شینگ کے مطابق، سسٹم طرز عمل کی ماڈلنگ اور الگورتھم کی درستگی کو بہتر بنانے کے لیے مشاہداتی اعداد و شمار سے سیکھتا ہے ۔

    اکتوبر 2024 میں، چین کی وزارت زراعت و دیہی امور نے 2024-2028 کے لیے قومی سمارٹ ایگریکلچر ایکشن پلان جاری کیا۔ منصوبے کے مطابق، 2026 کے آخر تک، سمارٹ ایگریکلچر کے لیے عوامی خدمات کی بنیادی صلاحیت کو تشکیل دینا ہوگا، جس میں 30 فیصد سے زائد زرعی پیداواری عمل، معلومات پر مبنی ہو گا۔ 2028 کے آخر تک، انفارمیٹائزیشن کوریج 32 فیصد سے زیادہ ہونے کی توقع ہے، جو سمارٹ ٹیکنالوجیز ، اہم فصلوں اور مویشیوں کے لیے لاگت میں کمی اور پیداوار بڑھانے کا بنیادی محرک بنیں گی۔

    جیانگ سو اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل انفارمیشن کے سربراہ رین نی کہتے ہیں کہ ،قحط سالی کا موثر ردعمل یا کیڑوں پر قابو پانا ، رفتار اور درستگی دونوں کا متقاضی ہوتا ہے، جس کے لیے پیچیدہ بیک اینڈ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے۔

    چین نے قومی سطح کے 34سمارٹ ایگریکلچر اختراعی اور ذیلی مراکز، اور 35 زرعی انفارمیشن ٹیکنالوجی لیبارٹریز قائم کی ہیں، جو کہ اعلیٰ تھرو پٹ فصل کی فینوٹائپنگ، سائٹ پر مٹی کے تجزیے اور روبوٹک پلیٹ فارمز میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں۔تاہم ماہرین بڑے پیمانے پران تعیناتیوں کے چیلنجز کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ملک کا متنوع جغرافیہ، آب و ہوا کے زونز اور فصلوں - مویشیوں کی غیر یکسانیت ، معیاری الگورتھم کی ترقی اور سازوسامان کے ڈیزائن کو پیچیدہ بناتی ہے، جس کے لیے مربوط نظام کی ضرورت ہوتی ہے جو لاگت کی کارکردگی کے ساتھ اسکیل ایبلٹی کو متوازن کرتے ہیں۔

    ترقی یافتہ ممالک جدید زرعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک آپریٹر کو 5,000 مو سے زائد کھیتوں (تقریباً 333.33 ہیکٹر) کا انتظام کرنے کے قابل بناتے ہیں، چین کے سمارٹ فارم اقدامات کا مقصد 10,000 مو فی مینیجر سے زیادہ آپریشنل صلاحیتوں کا حامل بنانا ہے ، جو عالمی مطابقت کے ساتھ پیداواری معیار کو ہم آہنگ کرتا ہے۔

    مشرقی چین کے صوبے آنہوئی کے شہر بینگ بو کی کاونٹی ووہے کے گاوں چانگ شو میں تکنیکی ماہرین، مکئی کے کھیتوں پر ڈرون کے ذریعے کیڑے مار ادویہ چھڑک رہے ہیں۔ (لی چیانگ چیان /پیپلز ڈیلی آن لائن)

    مشرقی چین کے صوبے آنہوئی کے شہر بینگ بو کی کاونٹی ووہے کے گاوں چانگ شو میں تکنیکی ماہرین، مکئی کے کھیتوں پر ڈرون کے ذریعے کیڑے مار ادویہ چھڑک رہے ہیں۔ (لی چیانگ چیان /پیپلز ڈیلی آن لائن)

    ویڈیوز

    زبان