• صفحہ اول>>کاروبار

    کوئلے سے آگے: شانشی کی توانائی کی تبدیلی چین کی توانائی کی منتقلی کی جھلک دکھاتی ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-05

    5فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)چین کے توانائی نظام میں بے حد اہم اور طویل عرصے سے کوئلے کی پیداوار کے لیے معروف شانشی ، مختلف علاقوں کو ایندھن اور بجلی فراہم کرتا ہے۔ آج شانشی ایک نئے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے اور وہ ہے فوسل ایندھن پر انحصار کے باوجود صاف توانائی کی طرف منتقل ہونا۔ 2025 میں، شانشی نے 90.48 گیگا واٹ صاف توانائی کی صلاحیت کے ساتھ ایک سنگ میل حاصل کیا، جو اس کی بجلی کی کل صلاحیت کا 55.1 فی صد ہے اور پہلی بار کوئلے کی پیداوار سے آگے نکل گیا ہے۔ شانشی کی تقریباً ایک تہائی بجلی اب صاف ذرائع سے آتی ہے، جو صوبے اور چین دونوں کے لیے ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔

    چین کے توانائی کے بڑے مراکز میں سے ایک شانسی، ملک میں کوئلے کاسب سے بڑا پیداواری علاقہ ہے اور اس کے پاور پلانٹس صوبائی سطح کے 24 علاقوں کو طویل فاصلے کی ترسیلی لائنز کے ذریعے بجلی فراہم کرتے ہیں۔ یہ صوبہ طویل عرصے سے چین کے توانائی نظام میں ایک مستحکم کردار ادا کرتا آرہا ہے۔اب یہ کردار ازسِر نو ترتیب پا رہا ہے۔ 2030 سے پہلے کاربن پیک اور 2060 سے پہلے کاربن نیوٹرلٹی حاصل کرنے کے چین کے "ڈوئل کاربن" اہداف کے تحت، توانائی پیدا کرنے والے علاقے اب صرف سپلائرز نہیں رہے، بلکہ قومی توانائی نظام کو دوبارہ تشکیل دینے میں پیش پیش ہیں۔

    2025 تک، چین کی نصب شدہ بجلی کی کل صلاحیت میں قابل تجدید توانائی کا حصہ 60 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب کوئلہ، بجلی کی فراہمی میں ترقی کا بنیادی محرک نہیں رہا، بلکہ یہ اس وقت نظام کو مستحکم کرتا ہے جب قابل تجدید توانائی کی فراہمی کم ہو جاتی ہے۔

    وسائل سے بھرپور صوبے اکثر دوہری پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں: انہیں پیداوار کو متاثر کیے بغیر اخراجات میں کمی لانی ہوتی ہےاور مقامی معیشتوں کو غیر مستحکم کیے بغیر تنوع پیدا کرنا ہوتا ہے۔ شانشی نے ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک عملی نقطہ نظر اپنایا ہے اور غیر موثر کوئلے کی صلاحیت کو کم کرنا جبکہ قابل تجدید توانائی کو تیزی سے بڑھانا کی دوہری حکمت عملی پر انحصار کیا ہے۔ کوئلے کے میدان میں، صوبے نے 2021 سے 2025 کے درمیان 4 ملین کلو واٹ سے زیادہ پرانے کوئلے کے یونٹس کو ختم کیا، جبکہ 6 ملین کلو واٹ کی سطح کے نئے یونٹس کو آن لائن لایا۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئلے کی طاقت میں کمی نہیں آئی، بلکہ یہ زیادہ صاف اور موثر ہو گئی ہے۔اسی دوران، قابل تجدید توانائی کی صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صوبائی توانائی انتظامیہ کے مطابق، ہوا اور شمسی تنصیبات نے کئی سالوں سے سالانہ ڈبل ڈیجٹ ترقی ریکارڈ کی ہے، جس سے تنصیبی صلاحیت اور بجلی کی حقیقی پیداوار، دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    تھائی یوان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے مٹیریل سائنس اینڈ انجینئرنگ کالج کے پروفیسر چیاو جن وئے کہتے ہیں کوئلے سے توانائی بنانے کے "پاور ہاوس" شانشی کا ،توانائی کی منتقلی کا یہ انتخاب چین کے توانائی کے نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ صاف توانائی کو اپنانا ایک واضح اشارہ ہے کہ اگر فوسل فیول کے پاور ہاوس بھی قابل تجدید توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں ، تو روایتی وسائل کی کمی والے علاقوں کے پاس ایسا نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلا قدم صاف توانائی کے استعمال کی کارکردگی کو بڑھانا ہے اور ایک بڑے پاور گرڈ کی تعمیر کرنا ہے جس میں لچک اور توازن کی زیادہ صلاحیت ہو۔شانشی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ سون یوحان کہتے ہیں کہ شان شی اور توانائی سے بھرپور دیگر علاقوں کے لیے، سمارٹر گرڈز، قابل تجدید توانائی جمع کرنے کے مراکز اور صنعتی صارفین کو براہ راست سبز توانائی کی فراہمی کے لیے پائلٹ منصوبے نیز کوئلے اور صاف توانائی کے زیادہ مؤثر انضمام ،بجلی کے نظام کی لچک کو بہتر بنائیں گے، جس سے طلب و رسد کے توازن میں بہتری آئے گی اور قابل تجدید توانائی کے استعمال کی شرح میں اضافہ ہوگا۔

    شان شی کی کوششیں قومی ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ چین، جیسے جیسے نئی توانائی کی صلاحیت کو تیزی سے بڑھا رہا ہے اور سبز توانائی بجلی کےمجموعے میں بڑھتے ہوئے حصے کی نمائندگی کررہی ہے ، اس ترقی کی رفتار کو مؤثر طریقے سے توازن میں رکھنا اور اسے جذب اور استعمال کرنے کی صلاحیت کے ساتھ جوڑنا ملک کی کم کاربن منتقلی میں ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔ اس کے جواب میں چین نے جدید توانائی کے نظام کی ترقی کو تیز کرنے اور نئی توانائی کے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو پاور گرڈز میں جذب کرنے کے لیے پالیسیز کو بہتر بنانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان