• صفحہ اول>>کاروبار

    چین ، کس طرح زرعی جدیدیت اور دیہی بحالی کو آگے بڑھا رہا ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-02-05

    28 جنوری 2026 ۔گونگ شی چھوانگ خود اختیار علاقے کی ڈسٹرکٹ کے چھینگ توان ٹاؤن کے قریب ایک مرکزِ شجر کاری کا فضائی منظر ۔(شنہوا/وانگ جنگ چیانگ)

    28 جنوری 2026 ۔گونگ شی چھوانگ خود اختیار علاقے کی ڈسٹرکٹ کے چھینگ توان ٹاؤن کے قریب ایک مرکزِ شجر کاری کا فضائی منظر ۔(شنہوا/وانگ جنگ چیانگ)

    4فروری (پیپلز ڈیلی آن لائن)ہر سال چین کی مرکزی حکومت کی طرف سے جاری کردہ پہلا پالیسی بیان زراعت کے حوالے سے ہوتا ہے ۔ اس سال بھی 4 فروری کو 2026 کی"نمبر 1 مرکزی دستاویز" جاری کر دی گئی ہے جس کے تحت چین، زرعی اور دیہی جدیدیت کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ جامع دیہی بحالی کو فروغ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔

    اس حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس میں ، مرکزی کمیٹی کے دفتر برائے مالی و اقتصادی امور کے ایگزیکٹو ڈپٹی ڈائریکٹر ہان وین شیئو نے بتایا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے، قومی غذائی تحفظ کی حفاظت، غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور بڑھانے نیز دیہی ترقی کو صنعتوں، بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی کے شعبوں میں بڑھانا ضروری ہے۔2025 میں ،چین کی اناج کی پیداوار تقریباً 714.9 ملین ٹن تک پہنچ گئی اور اناج کی فی کس فراہمی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سکیورٹی لائن سے 100 کلوگرام زیادہ تھی۔جبکہ ملک کے پاس تسلی بخش فراہمی، مستحکم منڈیوں اور اناج نیز دیگر اہم زرعی مصنوعات کے وافر ذخائر ہیں۔ آنے والے دور میں اناج کی طلب مجموعی طور پر بڑھتی رہے گی لہذا خوراک کے تحفظ پر توجہ کبھی بھی کمزور نہیں پڑنی چاہیے۔دستاویز میں مجموعی زرعی پیداواری صلاحیت کے ساتھ ساتھ معیار اور کارکردگی کو بڑھانے پر زور دیا گیا ہے ۔ ہان وین شیئو نے کہا کہ چین ،اناج اور خوردنی تیل کی مستحکم پیداوار کو یقینی بنانے اعلیٰ معیار کی زرعی زمین کی ترقی کو مضبوط کرنے، زرعی، سائنسی و تکنیکی جدت کے اثر کو بڑھانے اور قدرتی آفات کی روک تھام اور انہیں کم کرنے کی صلاحیت تشکیل دینے پر کام کرے گا ۔

    دستاویز کے مطابق 2025میں، غربت کے خاتمے کو دیہی بحالی سے منسلک کرنے کا پانچ سالہ منتقلی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ 2026 سے توجہ ،معاونت کے باقاعدہ، طویل مدتی نظام کی تشکیل پر مرکوز ہوگی۔ اس میں بہتر امدادی پالیسیز ، بروقت مدد، صنعت اور روزگار کے مؤثر پروگرامز اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے مخصوص حکمت عملیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ان کوششوں کا ہدف ، عارضی معاونت سے مستحکم ڈھانچوں کی طرف منتقلی ہے تاکہ پالیسی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور بڑے پیمانے پر غربت کی واپسی کو روکا جا سکے۔

    چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے محقق جونگ یو کہتے ہیں کہ کاؤنٹی سطح کی صنعتیں، مقامی آمدنی بڑھانے کے لیے انتہائی اہم ہیں مثلاً ایکوئٹی ڈویڈنڈز اور مقامی روزگار جیسے مواقع جن سے کسان صنعتی ترقی سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔دستاویز میں دیہی علاقے کی فضائی منصوبہ بندی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور بنیادی عوامی خدمات کی فراہمی کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ خوبصورت اور ہم آہنگ دیہات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس میں جامع ماحولیاتی تحفظ اور بحالی پر بھی زور دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، دیہی رسومات کو فروغ دینے اور محفوظ، قانون کی پاسداری کرنے والے دیہات قائم کرنے کی مہمات کو تیز کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان