ہانگ کانگ میں قائم امریکی چیمبر آف کامرس نے حال ہی میں 2026 کی سالانہ "ہانگ کانگ بزنس کانفیڈنس سروے رپورٹ" جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 86 فیصد کمپنیوں کا ماننا ہے کہ ہانگ کانگ بطور بین الاقوامی کاروباری مرکز اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے، 92 فیصد کمپنیوں کا ہانگ کانگ سے اپنا صدر دفتر منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ 94 فیصد اداروں نے ہانگ کانگ کے نظامِ قانون پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اس حوالے سے 5 تاریخ کو چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ہانگ کانگ میں کام کرنے والی امریکی کمپنیوں کا ہانگ کانگ کے ترقیاتی امکانات اور کاروباری ماحول پر اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس وقت ہانگ کانگ امن و استحکام سے ترقی کی جانب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، معیشت تیزی سے فروغ پا رہی ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیات، بحری نقل و حمل اور تجارت کے مراکز کے طور پر اس کی حیثیت مستحکم ہے، اور متعدد عالمی درجہ بندیوں میں ہانگ کانگ نمایاں مقام پر فائز ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی بیسویں مرکزی کمیٹی کے چوتھے کل رکنی اجلاس نے ہانگ کانگ کی طویل المدتی خوشحالی اور استحکام کے فروغ کے لیے متعدد اہم اقدامات تجویز کیے ہیں، جس کے بعد ہانگ کانگ کے مستقبل کے ترقیاتی امکانات مزید وسیع ہو گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق، توقع ہے کہ امریکہ سمیت دنیا کے مزید ممالک کی کمپنیاں ہانگ کانگ میں سرمایہ کاری اور کاروبار کا رخ کریں گی اور چینی طرز کی جدیدکاری اور "ایک ملک، دو نظام" سے حاصل شدہ فوائد میں شریک ہوں گی۔



